Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا لائف انشورنس جائز ہے؟

کیا لائف انشورنس جائز ہے؟

موضوع: بیمہ و انشورنس   |  انسانوں کی انشورنس   |  جدید فقہی مسائل

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد عمر       مقام: لاہور، پاکستان

سوال نمبر 765:
السلام علیکم براہ مہربانی لائف انشورنس کے بارے میں آگاہ فرمایئے کہ یہ جائز ہے یا ناجائز؟ اور دلیل کے ساتھ آگاہ فرمایئے۔ شکریہ

جواب:
زندگی کے بیمہ کا مطلب ہے کہ آدمی خود یا اس کی جائیداد خدانخواستہ کسی بھی وقت کسی حادثہ سے دوچار ہوسکتا ہے۔ جس کے نتیجے میں اس کے پسماندگان مثلاً والدین، بیوی، بچے اور جو عام حالات میں اس کے زیرکفالت تھے وہ فقر و فاقہ اور سنگین مالی، معاشی اور سماجی مشکلات کا شکار ہونگے۔ زندگی کا بیمہ چونکہ حکومت یا اس کی مجاز کمپنیاں کرتی ہیں اس لیے وہ متاثرہ اشخاص یا ادارے سے بیمہ کرانے کے عوض متعین رقم وصول کرتی ہیں جو متعین مدت کے لیے ہوتی ہے۔ اگر اس معاہدے کے دوران وہ شخص یا چیز سلامت ہے تو کمپنی اس کی جمع شدہ رقم سے دوگنی یا کم و بیش اسے ادا کر دیتی ہے۔ اس میں نہ جوا ہے، نہ سود لہذا بیمہ جائز ہے۔ یہی بات اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے احکام شریعت میں بیان کی ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2011-03-12


Your Comments