کیا بنک کی نوکری جائز ہے؟

سوال نمبر:748
کیا بنک کی نوکری جائز ہے؟

  • سائل: الطا ف حسنمقام: پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 11 مارچ 2011ء

زمرہ: جدید فقہی مسائل  |  سود

جواب:
ہمارے ہاں بنکنگ کا سارا نظام اور کاروبار سود پر مبنی ہے اور ایسی ملازمت جس میں سود کا عمل دخل ہو حرام ہے، لیکن ایسے ادارے میں ملازمت صرف اس شرط پر جائز ہے کہ آپ کسی جائز ملازمت کی تلاش جاری رکھیں اور جب سود سے پاک ملازمت مل جائے تو ادھر سے مستعفی ہوجائیں۔ جب تک آپ کو متبادل سود سے پاک روزگار نہ ملے آپ اپنے آپ کو اور اپنے اہل خانہ کو تنگ دستی اور بھوک سے بچانے کے لیے اضطراراً یہ ملازمت کر سکتے ہیں۔ اس لیے کہ قرآن میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ حالت اضطراری میں مردار کھانا جائز ہے لیکن بقدر ضرورت اور حلال رزق کی تلاش ساتھ ساتھ جاری رکھیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟