کسی غیر کی منکوحہ سے نکاح کا کیا حکم ہے؟


سوال نمبر:5636
السلام علیکم! سوال اگر کوئی عورت اپنے شوہر کے زندہ ہوتے ہوئے کسی معشوق کو تحریری طور پر یہ لکھ دے جیسے ’معشوق: میں آپکو اپنے نکاح میں لینا چاہتا ہوں کیا آپ کو قبول ہے؟ عورت: جی ہاں مجھے قبول ہے قبول ہے قبول ہے۔ دستخط عورت‘۔ عورت کا حقیقی شوہر ناراضگی کی وجہ 3 سال سے عورت سے علیحدہ رہتا ہے۔ کیا نکاح اب بھی قائم ہے؟ اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں جواب ارسال کریں۔ نوازش ہوگی۔ جزاک اللہ

  • سائل: محمد نثارمقام: ہندوستان
  • تاریخ اشاعت: 14 جنوری 2020ء

زمرہ: نکاح

جواب:

کسی شخص کی منکوحہ عورت سے نکاح کرنا قطعی طور پر حرام ہے اور یہ حرمت آیات و روایت میں صراحت کے ساتھ موجود ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلاَّ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ.

اور شوہر والی عورتیں (بھی تم پرحرام ہیں) سوائے ان (جنگی قیدی عورتوں) کے جو تمہاری مِلک میں آجائیں۔

النساء، 4: 24

یعنی جو عورت کسی شخص کے نکاح میں ہے اس کا نکاح کسی دوسرے مرد سے نہیں ہو سکتا، جب تک طلاق یا خلع یا تنسیخ یا وفاتِ زوج سے نکاح ختم نہ ہو جائے اور عدتِ طلاق یا عدتِ وفات پوری نہ ہو جائے۔ اگر ان میں سے کوئی امر واقع نہ ہو تو شوہر اور بیوی ایک دوسرے سے چاہے جتنا عرصہ بھی جدا رہیں ان کا نکاح ختم نہیں ہوتا۔ مسئلہ مسئولہ میں بھی زوجین کا نکاح قائم ہے اور محض میاں بیوی کی ناراضگی یا علیحدگی کی وجہ سے نکاح ختم نہیں ہوا۔

مزید برآں یہاں نکاح کے لیے جو طریقہ کار اپنایا گیا وہ شرعی نکاح کی شرائط کو ہی پورا نہیں کرتا اس کے سبب بھی یہ نکاح قائم نہیں ہوا، اگر بالفرض یہاں نکاح کی شرعی شرائط پوری کر بھی لی جاتیں تو بھی یہ نکاح منعقد نہیں ہوسکتا تھا کیونکہ عورت پہلے سے ہی کسی کی منکوحہ ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری