کیا گھریلو ملازمین کو زکوۃ و صدقہ دیا جاسکتا ہے؟

سوال نمبر:5528
السلام علیکم! کیا اپنے گھریلو ملازم یا دوکان وغیرہ کے ملازم کو بوقت ضرورت (یعنی اس ملازم کے مانگنے پر) یا اس کے مانگنے کے علاوہ زکوٰۃ یا صدقات دیے جاسکتے ہیں؟ اسی طرح جو عیدی وغیرہ ملازمین کو دی جاتی ہے کیا وہ صدقات کے زمرے میں آتی ہے؟ براہ کرم تفصیل سے جواب عطا فرمائیں۔

  • سائل: حسن اعجازمقام: لاہور
  • تاریخ اشاعت: 20 ستمبر 2019ء

زمرہ: زکوۃ

جواب:

گھریلو ملازمین اگر غریب، نادار یا تنگ دست ہیں تو ان کو زکوٰۃ، صدقات واجبہ یا عشر کی رقوم دی جاسکتی ہیں۔ صدقات واجبہ کے اصلاً حقدار وہی افراد ہیں جو تنگ دستی و کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہوں‘ ایسے لوگ اگر زکوٰۃ و صدقات لینے سے کتراتے ہیں تو زکوٰۃ یا صدقے کی رقم ان کو عیدی یا بونس یا کسی بھی اور نام سے تحفہ کے طور پر دی جاسکتی ہے۔ ایسا کرنے سے بھی زکوٰۃ ادا ہو جائے گی۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری


اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟