کیا شریعت نے مسواک کی لمبائی اور موٹائی کی حد مقرر کی ہے؟

سوال نمبر:5165
السلام علیکم! مسواک کی لمبائی کے بارے شریعت نے کیا حد مقرر کی ہے؟

  • سائل: زاکرمقام: لاہور
  • تاریخ اشاعت: 24 دسمبر 2018ء

زمرہ: طہارت

جواب:

قرآن و حدیث میں مسواک کی لمبائی یا موٹائی کی کوئی حد مقرر نہیں کی گئی، اس لیے اپنی سہولت و ضرورت کے مطابق کسی بھی حجم کی مسواک استعمال کی جاسکتی ہے۔ مسواک سے شریعت کا اصل مقصود منہ کی صفائی ہے۔ جیسا کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

السِّوَاكُ مَطْهَرَةٌ لِلْفَمِ، مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ.

مسواک منہ کی صفائی کا سبب ہے، رب کریم کی خوشنودی کا باعث ہے۔

  1. نسائي، السنن الكبرى، كتاب الطهارة، الترغيب في السواك، 1: 64، رقم: 4، حلب: مكتب المطبوعات الإسلامية
  2. ابن حبان، الصحيح، باب سنن الوضوء، ذكر إثبات رضا الله عز وجل للمتسوك، 3: 348، رقم: 1067، بيروت: مؤسسة الرسالة

ویسے بھی مسواک استعمال ہونے سے مسلسل چھوٹی ہوتی رہتی ہے جس کی بناء پر اس کی لمبائی ایک حالت میں نہیں رہ سکتی اور نا ہی کسی خاص لمبائی کو اس کی شرعی حد قرار دیا جاسکتا ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟