تکبیر تحریمہ سے کیا مراد ہے؟

سوال نمبر:424
تکبیر تحریمہ سے کیا مراد ہے؟

  • تاریخ اشاعت: 26 جنوری 2011ء

زمرہ: زکوۃ  |  عبادات

جواب:

تکبیر تحریمہ سے مراد نماز کا آغاز کرتے وقت اﷲ اکبر کہنا ہے۔ اس تکبیر کے کہنے سے نماز شروع ہو جاتی ہے۔ حضرت علی کرم اﷲ وجہہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا:

مِفْتَاحُ الصَّلٰوةِ الطُّهُوْرُ، وَتَحْرِيْمُهُا التَّکْبِيْرُ، وَتَحْلِيْلُهَا التَّسْلِيْمُ.

 ترمذی، الجامع الصحيح، ابواب الصلوة عن رسول اﷲ  صلي الله عليه وسلم ، باب ما جاء فی تحريم الصلة وتحليلها، 1:278، رقم: 238

’’نماز کی کنجی وضو ہے، اس کی تحریم اﷲ اکبر کہنا ہے (یعنی اس کا آغاز اﷲ اکبر کہنے سے ہے) اور اس کی تحلیل (اختتام) سلام پھیرنا ہے۔‘‘

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟