شراکت دار سے مشترکہ منافع نہ دے تو اس سے حصہ طلب کرنا کیسا ہے؟

سوال نمبر:4127
السلام علیکم مفتی صاحب! سال 2012 میں مَیں‌ نے اپنے دوست کو پندرہ (1500000) لاکھ روپے دیے اور ہم نے ملکر ایک شوروم کا کام شروع کیا۔ میری ذمہ داری شوروم کی دیکھ بھال تھی جبکہ میرے دوست کی ذمہ داری خرید و فروخت کی تھی۔ کام شروع کرنے سے پہلے ہم نے حلفاً ایک دوسرے سے وعدہ کیا کہ ہم ایک دوسرے کو دھوکہ نہیں دیں گے اور مشترکہ رقم سے ہونے والے کاروبار سے ملنے والے منافع میں ہم دونوں پچاس پچاس فیصد کے حصہ دار ہوں گے۔ پہلا مہینہ مکمل ہونے پر میرے دوست نے مجھے حساب دیا اور جتنا منافع تھا ہ ہم دونوں نے بانٹ لیا۔ اس کے بعد سے میرے دوست نے مجھے کوئی پیسہ نہیں دیا، اور کاروبار کے تمام اکاؤنٹس بھی اسی کے قبضے میں‌ ہی ہیں۔ براہِ مہربانی راہنمائی فرمائیں کہ اس کا حل کیا ہوگا؟ میں اپنی رقم کیسے واپس لے سکتا ہوں؟ میرا منافع مانگنا قانونی اور شرعی طور پر جائز ہے؟

  • سائل: محمد عثمانمقام: گوجرانوالہ
  • تاریخ اشاعت: 16 فروری 2017ء

زمرہ: مشارکت

جواب:

جب مشارکہ کی بنیاد پر ایک کاروبار شروع کیا اور منافع کی تقسیم کا طریقہ کار بھی طے ہو گیا تو بلاشبہ طے کردہ طریقہ کار کے مطابق آپ کا اپنا حصہ مانگنا جائز ہے۔ آپ شرعاً اور قانوناً اس کے مطالبہ کے مجاز ہیں۔ آپ کو اس کے لیے ریاستی قانون کی مدد لینی چاہیے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟