اسلام میں خنزیر کی خرید و فروخت کا کیا حکم ہے؟


سوال نمبر:4082
خنزیر کے بارے میں قرآن وحدیث میں کیا احکام ہیں۔ اگر یہ حرام ہے تو کب ہوا، اور کیوں ہوا؟

  • سائل: علی اسدمقام: ملائشیا
  • تاریخ اشاعت: 09 جنوری 2017ء

زمرہ: حلال و حرام جانور

جواب:

خنزیر کا گوشت قطعی طور پر حرام ہے۔ قرآن مجید میں چار مقامات پر اس کے حرام ہونے کے بارے میں واضح حکم پایا جاتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْکُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِيْرِ وَمَآ اُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اﷲِط فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَّلاَ عَادٍ فَلَآ اِثْمَ عَلَيْهِ ط اِنَّ اﷲَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌo

اس نے تم پر صرف مردار اور خون اور سؤر کا گوشت اور وہ جانور جس پر ذبح کے وقت غیر اﷲ کا نام پکارا گیا ہو حرام کیا ہے، پھر جو شخص سخت مجبور ہو جائے نہ تو نافرمانی کرنے والا ہو اور نہ حد سے بڑھنے والا تو اس پر (زندگی بچانے کی حد تک کھا لینے میں) کوئی گناہ نہیں، بے شک اﷲ نہایت بخشنے والا مہربان ہے۔

البقرة، 2: 173

دوسرے مقام پر فرمایا:

حُرِّمَتْ عَلَيْکُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيْرِ وَمَآ اُهِلَّ لِغَيْرِ اﷲِ بِهِ...الخ

تم پر مردار (یعنی بغیر شرعی ذبح کے مرنے والا جانور) حرام کر دیا گیا ہے اور (بہایا ہوا) خون اور سؤر کا گوشت اور وہ (جانور) جس پر ذبح کے وقت غیر اﷲ کا نام پکارا گیا ہو۔

المائدة، 5: 3

تیسرے مقام پر حرام قرار دینے کے ساتھ وجہ بھی بیان فرمائی کہ حرام کیوں ہے۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

قُلْ لَّآ اَجِدُ فِيْ مَآ اُوْحِيَ اِلَيَ مُحَرَّمًا عَلٰی طَاعِمٍ يَّطْعَمُهُ اِلَّآ اَنْ يَّکُوْنَ مَيْتَة اَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا اَوْلَحْمَ خِنْزِيْرٍ فَاِنَّهُ رِجْسٌ اَوْ فِسْقًا اُهِلَّ لِغَيْرِ اﷲِ بِهِ ج فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ فَاِنَّ رَبَّکَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌo

آپ فرما دیں کہ میری طرف جو وحی بھیجی گئی ہے اس میں تو میں کسی (بھی) کھانے والے پر (ایسی چیز کو) جسے وہ کھاتا ہو حرام نہیں پاتا سوائے اس کے کہ وہ مُردار ہو یا بہتا ہوا خون ہو یا سُؤر کا گوشت ہو کیو نکہ یہ ناپاک ہے یا نافرمانی کا جانور جس پر ذبح کے وقت غیر اﷲ کا نام بلند کیا گیا ہو۔ پھر جو شخص (بھوک کے باعث) سخت لاچار ہو جائے نہ تو نافرمانی کر رہا ہو اور نہ حد سے تجاوز کر رہا ہو تو بے شک آپ کا رب بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔

الانعام، 6: 145

اسی طرح چوتھے مقام پر فرمایا:

اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْکُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِيْرِ وَمَآ اُهِلَّ لِغَيْرِ اﷲِ بِهِ ج فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ فَاِنَّ اﷲَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌo

اس نے تم پر صرف مردار اور خون اور خنزیر کا گوشت اور وہ (جانور) جس پر ذبح کرتے وقت غیر اللہ کا نام پکارا گیا ہو، حرام کیا ہے، پھر جو شخص حالتِ اضطرار (یعنی انتہائی مجبوری کی حالت) میں ہو، نہ (طلبِ لذت میں احکامِ الٰہی سے) سرکشی کرنے والا ہو اور نہ (مجبوری کی حد سے) تجاوز کرنے والا ہو، تو بے شک اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔

النحل، 16: 115

حدیث مبارکہ میں خنزیر کی خریدوفروخت کو بھی حرام قرار دیا گیا ہے:

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اﷲِ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اﷲِ يَقُولُ عَامَ الْفَتْحِ وَهُوَ بِمَکَّةَ إِنَّ اﷲَ وَرَسُولَهُ حَرَّمَ بَيْعَ الْخَمْرِ وَالْمَيْتَة وَالْخِنْزِيرِ وَالْأَصْنَامِ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اﷲِ أَرَأَيْتَ شُحُومَ الْمَيْتَة فَإِنَّهَا يُطْلَی بِهَا السُّفُنُ وَيُدْهَنُ بِهَا الْجُلُودُ وَيَسْتَصْبِحُ بِهَا النَّاسُ فَقَالَ لَا هُوَ حَرَامٌ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اﷲِ عِنْدَ ذَلِکَ قَاتَلَ اﷲُ الْيَهُودَ إِنَّ اﷲَ لَمَّا حَرَّمَ شُحُومَهَا جَمَلُوهُ ثُمَّ بَاعُوهُ فَأَکَلُوا ثَمَنَهُ.

حضرت جابر بن عبد اﷲ رضی اللہ عنہ نے فتح مکہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا جبکہ آپ مکہ مکرمہ میں تھے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے شراب، مردار، خنزیر اور بتوں کی خرید وفروخت کو حرام قرار دے دیا ہے۔ عرض کی گئی کہ یا رسول اللہ! مردار کی چربی کو کشتیوں میں ملتے، کھالوں پر لگاتے اور لوگ اُس سے چراغ روشن کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں وہ حرام ہے۔ پھر اس کے ساتھ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ یہود کو غارت کرے، جب اللہ نے اُن پر چربی کو حرام کیا تو وہ اُسے پگھلا کر فروخت کر دیتے اور اس کی قیمت کھا جاتے۔

  1. البخاري، الصحيح، كتاب البيوع، باب بيع الميتة والأصنام، 2: 779، الرقم: 2121، بيروت: دار ابن کثير اليمامة
  2. مسلم، الصحيح كتاب المساقاة، باب تحريم بيع الخمر والميتة والخنزير والأصنام، 3: 1207، الرقم: 1581، بيروت: دار احياء التراث العربي
  3. أحمد بن حنبل، المسند، 3: 324، الرقم: 14512، مصر: مؤسسة قرطبة

مذکورہ بالا حدیث مبارکہ ابو داود، امام ترمذی، ابن ماجہ، امام نسائی، امام طبرانی اور دیگر محدثین نے بھی نقل کی ہے۔ لہٰذا اﷲ تعالیٰ اور رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کے مطابق مسلمانوں کے لیے تو خنزیر کا گوشت کھانا اور اس کی خریدوفروخت کرنا قطعی حرام ہے۔ لیکن بائبل میں بھی اس کے حرام ہونے کا حکم پایا جاتا ہے:

You may not eat the meat of these animals (pig) or even touch their carcasses.They are ceremonially unclean for you.

اور تم سؤر اور اس طرح کے جانور کا گوشت نہ کھاؤ، حتی کہ ان کی مردہ لاش یا پنجر کو بھی مت چھوؤ کیونکہ وہ غلیظ ہیں۔

Leviticus, 11: 8

یعنی اسلام سے پہلے بھی خنزیر حرام تھا اور جو عیسائی اس کا گوشت کھاتے ہیں وہ اپنے مذہب سے دوری کی وجہ سے حکم خدا وندی کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ آپ نے یہ بھی دریافت کیا کہ خنزیر حرام کیوں ہے؟ اس کا ایک جواب تو آیت مبارکہ میں دیا گیا ہے کہ یہ ناپاک ہے لیکن کسی بھی کام کے کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے واضح احکام معلوم ہو جانے کے بعد ہمیں یہ سوال کرنے کا حق حاصل نہیں ہے کہ فلاں کام حلال کیوں ہوا یا فلاں کام حرام کیوں ہے؟ یہ اﷲ تعالیٰ کی شان ہے کہ قیامت کے دن ہر انسان سے باز پرس کرے گا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

لَا يُسْئَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْئَلُوْنَo

اس سے اس کی بازپرس نہیں کی جا سکتی وہ جو کچھ بھی کرتا ہے، اور ان سے (ہر کام کی) بازپرس کی جائے گی۔

الأنبياء، 21: 23

مزید فرمایا:

وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَامُؤْمِنَة اِذَا قَضَی اﷲُ وَرَسُوْلُهُ اَمْرًا اَنْ يَکُوْنَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْ ط وَمَنْ يَعْصِ اﷲَ وَرَسُوْلَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰـلًا مُّبِيْنًاo

اور نہ کسی مومن مرد کو (یہ) حق حاصل ہے اور نہ کسی مومن عورت کو کہ جب اللہ اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی کام کا فیصلہ (یا حکم) فرما دیں تو ان کے لیے اپنے (اس) کام میں (کرنے یا نہ کرنے کا) کوئی اختیار ہو، اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نافرمانی کرتا ہے تو وہ یقینا کھلی گمراہی میں بھٹک گیا۔

الاحزاب، 33: 36

اگلی آیت مبارکہ میں ایسے لوگوں کو ہی فلاح پانے والے کہا گیا ہے:

اِنَّمَا کَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِيْنَ اِذَا دُعُوْٓا اِلَی اﷲِ وَرَسُوْلِهِ لِيَحْکُمَ بَيْنَهُمْ اَنْ يَقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا ط وَاُولٰٓـئِکَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَo

ایمان والوں کی بات تو فقط یہ ہوتی ہے کہ جب انہیں اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ فرمائے تو وہ یہی کچھ کہیں کہ ہم نے سن لیا، اور ہم (سراپا) اطاعت پیرا ہوگئے، اور ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔

النور، 24: 51

اگر کوئی قرآن وحدیث کو نہ بھی مانتا ہو تو اس کے لئے کھلا آپشن ہے کہ عملی طور پر خنزیر سے آنے والی بدبو، اس کے اپنی غلاظت کھانے، اپنی مادہ کے لئے دوسرے نر پسند کرنے، ہم جنس پرستی جیسی دیگر عادات میں تمام حیوانات سے منفرد ہونے کو ہی دیکھ لے اور اس کے علاوہ جدید سائنس بھی خنزیر کے بارے میں مزید انکشافات کر چکی ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری