Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
  وطن سے محبت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ 
فتویٰ آن لائن - کیا جمعہ کے دن روزہ رکھنا مکروہ ہے؟

کیا جمعہ کے دن روزہ رکھنا مکروہ ہے؟

موضوع: روزہ

سوال پوچھنے والے کا نام: فیصل لاشاری       مقام: ایران

سوال نمبر 4073:
کیا جمعہ کے دن روزہ رکھنا گناہ ہے؟

جواب:

احادیث مبارکہ میں ہے:

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُولُ لَا يَصُومَنَّ أَحَدُکُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِلَّا يَوْمًا قَبْلَهُ أَوْ بَعْدَهُ.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ تم میں سے کوئی صرف جمعہ کا روزہ نہ رکھے مگر جب کہ اس سے پہلے یا بعد والے دن کا بھی روزہ رکھے۔

امام ترمذی اس حدیث مبارکہ کے بارے میں فرماتے ہیں:

حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَی هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ يَکْرَهُونَ لِلرَّجُلِ أَنْ يَخْتَصَّ يَوْمَ الْجُمْعَةِ بِصِيَامٍ لَا يَصُومُ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ وَإِسْحَقُ.

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث حسن صحیح ہے اور علماء کا اس پر عمل ہے ان کے نزدیک مکروہ ہے کہ کوئی شخص جمعہ کا دن روزے کے لیے مخصوص کرے کہ نہ تو اس سے پہلے رکھے اور نہ ہی بعد امام احمد اور اسحاق رحمہما اﷲ کا یہی قول ہے۔

  1. بخاري، الصحيح، 2: 700، رقم: 1884، بيروت، لبنان: دار ابن کثير اليمامة
  2. مسلم، الصحيح، 2: 801، رقم: 1144، بيروت، لبنان: دار احياء التراث العربي
  3. ترمذي، السنن، 3: 119، رقم: 743، بيروت، لبنان: دار احياء التراث العربي

صرف جمعہ کے دن کو ہی روزہ رکھنے کے لئے مخصوص کرنے کی کراہت کے بارے میں شارحین حدیث نے کئی وجوہات بیان کی ہیں لیکن ایک وجہ حقیقت کے زیادہ قریب ہے جو حضرت علامہ علی بن سلطان محمد القاری حنفی رحمہ اﷲ نے بھی مذکورہ بالا حدیث مبارکہ کی شرح میں لکھی ہے:

أن نقول کره تعظيمنا يوم الجمعة باختصاصه بالصوم لأن اليهود يرون اختصاص السبت بالصوم تعظيما له والنصاري يرون اختصاص الأحد بالصوم تعظيما له ولما کان موقع الجمعة من هذه الأمة موقع اليومين من إحدي الطائفتين أحب أن يخالف هدينا هديهم فلم ير أن نخصه بالصوم.

ہم کہتے ہیں کہ ہمارے لئے جمعہ کے دن کو روزے کے ساتھ خاص کرنے کی تعظیم کی کراہت اس لئے ہے کہ یہودی ہفتہ کے دن کو عظمت کی خاطر روزے کے ساتھ خاص کرتے تھے اور عیسائی اتوار کے دن کو تعظیم کی خاطر روزے کے ساتھ خاص کرتے تھے لیکن اس امت کے لئے جمعہ کے دن کی حیثیت ان دونوں جماعتوں کے دو دِنوں کی حیثیت رکھتا ہے۔ تو پسندیدہ کیا ہمارا طریقہ ان کے مخالف ہو تو مناسب نہیں سمجھا کہ ہم جمعہ کے دن کو روزے کے ساتھ خاص کریں۔

ملا علي القاري، مرقاة المفاتيح، 4: 479، بيروت، لبنان: دار الکتب العلمية

جیسے یوم عاشورہ کے ساتھ نویں یا گیاریں محرم کا روزہ نہ رکھنا مکروہ تنزیہی ہے اسی طرح صرف جمعہ کے دن کا اکیلا روزہ رکھنا ہے۔ ایک اور حدیث مبارکہ میں ہے:

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ لَا تَخْتَصُّوا لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ بِقِيَامٍ مِنْ بَيْنِ اللَّيَالِي وَلَا تَخُصُّوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ بِصِيَامٍ مِنْ بَيْنِ الْأَيَامِ إِلَّا أَنْ يَکُونَ فِي صَوْمٍ يَصُومُهُ أَحَدُکُمْ.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اور راتوں میں صرف جمعہ کی رات کو قیام کے ساتھ مخصوص کرو نہ اور دنوں میں صرف جمعہ کے دن کو روزے کے ساتھ مخصوص کرو، سوا اس کے کہ کوئی شخص (کسی تاریخ کو) ہمیشہ روزہ رکھتا ہو اور (اس تاریخ میں) جمعہ کا دن آ جائے۔

  1. مسلم، الصحيح،2 : 801، رقم: 1144
  2. نسائي، السنن، 2: 142، رقم: 2755، بيروت: دار الکتب العلمية

ایک روایت میں ہے:

عَنْ زِرٍّ عَنْ عَبْدِ اﷲِ قَالَ کَانَ رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَصُومُ مِنْ غُرَّةِ کُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَامٍ وَقَلَّمَا کَانَ يُفْطِرُ يَوْمَ الْجُمْعَةِ.

حضرت زر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر مہینے کے شروع میں تین دن روزہ رکھتے اور بہت کم جمعہ کے دن روزے کا ناغہ فرماتے۔

امام ترمذی فرماتے ہیں:

حَدِيثُ عَبْدِ اﷲِ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَقَدِ اسْتَحَبَّ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ صِيَامَ يَوْمِ الْجُمُعْةِ وَإِنَّمَا يُکْرَهُ أَنْ يَصُومَ يَوْمَ الْجُمْعَةِ لَا يَصُومُ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ قَالَ وَرَوَی شُعْبَةُ عَنْ عَاصِمٍ هَذَا الْحَدِيثَ وَلَمْ يَرْفَعْهُ.

حدیث عبد اللہ حسن غریب ہے، اہل علم کی ایک جماعت کے نزدیک جمعہ کا روزہ پسندیدہ ہے اور اس طرح جمعہ کا روزہ مکروہ ہے کہ نہ تو اس سے پہلے رکھے اور نہ ہی بعد۔ یہ حدیث شعبہ نے عاصم سے موقوف روایت کی ہے۔

  1. أحمد بن حنبل، المسند، 1: 406، رقم: 3860
  2. ترمذي، السنن، 3: 118، رقم: 742، بيروت، لبنان: دار احياء التراث العربي

لہٰذا صرف جمعہ کے دن کو ہی روزہ رکھنے کے لئے کے لئے مخصوص نہ کیا جائے یعنی باقی دنوں میں نفلی روزہ کی اہمیت کم سمجھنے کی سوچ قائم نہیں ہونی چاہیے۔ ایک دن پہلے یا بعد میں ساتھ ملا لیا جائے تو بہتر ہے۔ اگر کوئی شخص ہر ماہ جیسے ایام بیض وغیر کے روزے رکھتا ہو تو درمیان میں جمعہ آجائے یا کسی تاریخ کا روزہ رکھنے کی نظر مانے تو اس دن جمعہ آ جائے تو روزہ رکھ سکتا ہے کوئی حرج نہیں ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2017-01-09


Your Comments