کیا تعویذات میں گنتی لکھنا جائز ہے؟

سوال نمبر:4069
السلام علیکم مفتی صاحب! بعض اوقات تعویذات پر 1 سے 9 تک گنتی مختلف خانوں مین لکھی ہوتی ہے، اس کی حقیقت کیا ہے؟ ایسے تعویذات کو پہننا کیسا ہے؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ نادِ علی جس میں بعض شرکیہ کلمات ہیں اس کو پڑھنا کیسا ہے؟ کیا مدد کے لیے غیراللہ کو پکارنا جائز ہے؟ براہِ مہربانی طہارت، وضو اور نماز سے متعلقہ ویڈیوز اور سوالات کے معتلق راہنمائی فرما دیں۔

  • سائل: چوہدری احمدمقام: ناروے
  • تاریخ اشاعت: 16 جنوری 2017ء

زمرہ: استغاثہ و استمداد /نداء یار سول اللہ   |  دم، درود اور تعویذ   |  طہارت

جواب:

آپ کے سوالات کے بالترتیب جوابات درج ذیل ہیں:

  • ایسے تعویذات جن پر 1 سے 9 تک گنتی لکھی ہوئی ہوتی ہے یہ حروفِ ابجد کے اعتبار سے لکھے ہوتے ہیں۔ ہمارے نزدیک قرآن و حدیث کو اعداد کی صورت میں لکھنا فائدہ مند نہیں ہے۔ تعویذات پر قرآنی آیات یا مقدس کلمات ہی لکھے ہونے چاہئیں۔ مقدس کلمات کے حروف ابجد نکال کر انہیں گنتی کی صورت میں لکھنا فیوض و برکات سے محروم کر دیتا ہے۔ ایسے تعویذات پہننا بھی بےفائدہ ہے۔ وہ تعویذات جن پر جنتر منتر لکھے ہوں وہ پہننا جائز نہیں ہیں۔
  • نادِ علی کا لفظی معنیٰ ہے سیدنا مولا علی کرم اللہ وجھہ الکریم کو ندا دینا یا پکارنا۔ یہ ایک دعا ہے جس میں سیدنا مولا علی کرم اللہ وجھہ الکریم سے اِستعانت، اِستمداد اور اِستغاثہ کیا جاتا ہے۔ چار سطروں پر مشتمل اس دعا کی جو عبارت ہم نے پڑھی ہے ہماری دانست میں اس دعا میں کسی قسم کا شرکیہ کلمہ نہیں۔ ممکن ہے اس میں کوئی ترمیم کی گئی ہو اس لیے بغیر کلمات دیکھے محض نام سن کر ہی اسے شرکیہ قرار نہیں دے سکتے۔ اَنبیاء، اَولیاء اور صلحاء و شہداء سے اِستعانت، اِستمداد اور اِستغاثہ جائز اور تعلیماتِ قرآن و سنت سے ثابت ہے۔

 بلا شک و شبہ حقیقی کارساز اور مددگار فقط اﷲ ربّ العزّت ہی کی ذاتِ بیکس پناہ ہے مگر ہم روزانہ سینکڑوں معاملات میں ایک دُوسرے کی مدد کرتے اور ایک دُوسرے سے مدد مانگتے ہیں۔ ہمارا باہم ایک دوسرے کی مدد کرنا شرک اور اﷲ ربّ العزّت کی توحید کا اِنکار نہیں بلکہ حکمِ ربانی کی تعمیل ہے۔ اَنبیائے کرام، صلحائے عِظام، اہلِ علم و فضل اور اہلِ حِرفہ کو ’’مستعانِ مجازی‘‘ سمجھتے ہوئے اُن سے مدد مانگنا عین اِسلام ہے، جبکہ ’’مستعانِ حقیقی‘‘ ذاتِ باری تعالی ہے۔ حقیقت و مجاز کی اِسی تقسیم سے کچھ لوگوں کا اِغماض اِستغاثہ سمیت اِسلام کے اکثر و بیشتر عقائد میں اُلجھاؤ پیدا کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں فرقہ بندی جنم لیتی ہے۔ اس مسئلہ کی مزید وضاحت کے لیے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی قرآن و حدیث کی تعلیمات پر مشتمل تصنیف ’مسئلہ اِستغاثہ‘ کا مطالعہ کیجیے، جس میں اِستغاثہ کی شرعی حیثیت، اِسلامی عقائد میں اِس کے مقام، جواز و عدم جواز اور اِس کے ساتھ ساتھ حُدودِ جواز کا تعین بھی پیش کیا گیا ہے۔ کتاب کے آن لائن مطالعہ کے لیے ملاحظہ کیجیے: مسئلہ استغاثہ اور اس کی شرعی حیثیت

  • طہارت، وضو اور نماز کے مسائل جاننے کے لیے ملاحظہ کیجیے:

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • کاروباری شراکت کے اسلامی اصول کیا ہیں؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟