Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - اسلام میں قضاء و قدر کا کیا تصور ہے؟

اسلام میں قضاء و قدر کا کیا تصور ہے؟

موضوع: ایمان بالقدر

سوال پوچھنے والے کا نام: ریحان       مقام: بنگلہ دیش

سوال نمبر 4055:
السلام علیکم مفتی صاحب! تقدیر کیا ہے؟ اگر ازل سے ابد تک کا سب کچھ لوحِ محفوظ پر لکھا ہوا ہے تو سزا و جزا کیسی؟

جواب:

تقدیر، قضا و قدر اور مقدر یہ تینوں الفاظ عام طور پر ایک ہی معنی میں بولے جاتے ہیں۔ قضاء کا لغوی معنیٰ ہے فیصلہ کرنا، ادا کرنا اور انجام دینا۔

راغب اصفهانی، المفردات، 406، 407

اس سے مراد وہ اصول اور قوانین فطرت ہیں جن کے تحت یہ کارخانہ قدرت معرض وجود میں لایا گیا۔ قوانینِ فطرت میں سے ایک اصول یہ ہے کہ اگر کوئی شحص نیکی کرے گا تو اسکے نتائج بھی نیک ہوں گے اور برائی کے ثمرات بھی برے ہی ہوں گے۔

قدر اور تقدیر کا لغوی معنیٰ اندازہ کرنا، طے کرنا اور مقرر کرنا ہے۔

راغب اصفهانی، المفردات، 395

اس سے مراد کائنات اور بنی نوع انسان کے احوال کا وہ علم ہے جواللہ تعالیٰ کے پاس لوح محفوظ میں لکھا ہے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

وَكُلَّ شَيْءٍ أحْصَيْنَاهُ فِي إِمَامٍ مُبِينٍO

يٰسين، 36، 12

’’ہر چیز کو ہم نے کتاب روشن یعنی لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔‘‘

گویا تقدیر علم الٰہی کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ کے علم میں کیا ہے؟ وہی بہتر جانتا ہے، ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اس بات پر یقین رکھیں کہ جو کچھ ہوا، ہو رہا ہے اور ہوگا، سب اللہ کے علم میں ہے۔ اسی کے طے کردہ وقت اور مقام کے مطابق ہوتا ہے۔ اس عالمِ الغیب کے لیے کوئی حادثہ اچانک نہیں ہوتا کیونکہ وہ سب کچھ پہلے سے جانتا ہے۔ خدا تعالیٰ نے انسان کے بارے میں فیصلے صادر فرمائے ہیں۔ فیصلوں میں انسان مجبور ہے، جیسے یہ کہ وہ کہاں پیدا ہو گا؟ اس کے ماں باپ کون ہوں گے؟ اسے کتنی عمر ملے گی وغیرہ۔ البتہ بعض فیصلوں میں وہ اپنے افعال و اعمال کا ارادہ کرنے کی حد تک آزاد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے اعمال کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے اور اسے ان پر نیکی یا بدی ملتی ہے۔

اگر یہ سوال کیا جائے کہ کیا خدا مستقبل کو جانتا ہے؟ تو اس کا جواب ہوگا کہ: ہاں! اسے آئندہ ہونے والے سارے واقعات اور حالات کا علم ہے، کیونکہ وہ عالم الغیب ہے، وہ زمانے کے وجود میں آنے سے پہلے اسے پوری تفصیلات کے ساتھ جانتا ہے۔ اور اگر یہ سوال کیا جائے کہ کیا آئندہ ہونے والے واقعات خدا کے جبر سے بالکل اسی طرح وجود پذیر ہوتے ہیں جیسے اس کا علم ہوتا ہے؟ تو اس کا جواب ہو گا کہ: نہیں! جن چیزوں کو وہ جبراً ایک خاص طریقے پر کرنا چاہتا ہے، صرف انھیں وہ جبراً کرتا ہے اور جنھیں اختیار و ارادہ کی آزادی دیتا ہے، وہ اسی کے اذن سے، اپنے اختیار و ارادہ کے ساتھ کام کرتی ہیں۔البتہ خدا کا علم دونوں کے بارے میں غلطی سے پاک ہوتا ہے۔ جن مواقع کے حوالے سے خدا نے یہ فیصلہ کیا ہوتا ہے کہ انسان اپنے لیے اپنی مرضی اور اپنے ارادے سے جس چیز کو طلب کرے گا، وہ اسے دے دی جائے گی، ان مواقع پر انسان کی تدبیر ہی سے اس کی تقدیر بنتی ہے۔

انسان تقدیر کا مکلف نہیں بلکہ احکام شرع کا پابند ہے۔ کوئی شخص جرم کا ارتکاب اور نیکی کا انکار اس دلیل سے نہیں کرسکتا کہ میری تقدیر میں یہی تھا، اس لیے کہ اسے شریعت نے نیکی کرنے اور بدی سے بچنے کا واضح حکم دیا ہے، اور وہ اس حکمِ شرعی کو بخوبی جانتا ہے۔ تقدیر کا تعلق علم غیب سے ہے جو انسان کے بس میں نہیں، انسان کو احکامِ شرع کی پابندی کا حکم دیا گیا ہے جس کی تعمیل یا انکار کا نتیجہ بھی اس کے سامنے رکھ دیا گیا ہے۔ اگر انسان اس کی تعمیل نہیں کرتا اور اس علم الٰہی (تقدیر) کا جسے وہ جانتا ہی نہیں، بہانہ بنا کر غلط راہ اختیار کرتا ہے اسے قسمت کا لکھا کہہ کر خود کو بری الذمہ قرار دینے کی کوشش کرتا ہے تو سوال یہ ہے کہ اسے کیسے پتہ چلا  کہ اس کی قسمت میں یہی لکھا تھا؟ کیا اس نے لوحِ محفوظ پر لکھا دیکھ لیا تھا؟ نہیں، بالکل بھی نہیں۔ قدرت نے جس شے کے بارے میں انسان اختیار دیا ہے، کرنے کی قدرت ہے، جس کے انجام سے باخبر کیا ہے اسے چھوڑ کر سارا کچھ تقدیر کے کھاتے میں ڈالنا جسے جانتے ہی نہیں اس کا بہانہ بنا کر فرائض سے فرار اور جرائم کا ارتکاب کرنا، بیمار اور مجرمانہ ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔

تقدیر کو اس طرح بیان کرنا کہ ’بس مقدر میں ہی یہی تھا‘ غلط فہمی پیدا کرتا ہے کہ شاید انسان مجبورِ محض ہے، یا ایک ایسی بےجان پتلی ہے جسے مقدر جس طرح چاہتا ہے نچاتا ہے۔ تقدیر ہی ایک انسان کو جبراً قاتل بناتی ہے اور کسی کو مقتول ہونے پر مجبور کرتی ہے، تقدیر ہی کسی کو جبراً نیک بناتا ہے اور کسی کو جبراً برا۔ اس سوچ سے نتیجہ یہ نکالے گا کہ اس دنیا میں ہونے والے جرائم اور اچھے اعمال کا ذمہ دار صرف خدا تعالیٰ ہے، انسان تو معصوم ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ نتیجہ کسی صورت بھی درست نہیں ہے۔

کائنات کی ہر چیز خدا کی مشیت و ارادے کے تابع ہے، اچھائی ہو یا برائی ان میں سے ہر دو اپنی اثر پزیری کیلئے خدا کے ارادے، مشیت و اذن ہی کی محتاج ہے، خود سے مؤثر نہیں۔ اچھائی میں اللہ تعالیٰ کے ارادے و مشیت کے ساتھ ساتھ اسکا حکم اور رضا سے بھی شامل ہوتا ہے، جبکہ برائی اللہ تعالیٰ کی مشیت سے اثر پزیر تو ہے مگر اس کے کسب میں اللہ کا حکم اور اس کی رضا شامل نہیں۔ انسان جو اعمال بھی سر انجام دیتا ہے، اسی مشیتِ خدا وندی اور خدا تعالیٰ کے عطا کردہ اختیار سے انجام دیتا ہے۔ چنانچہ جب انسان کا کوئی عمل اللہ تعالیٰ کے ارادے و مشیت کے ساتھ اسکے حکم اور رضا کے تابع ہو تو وہ صالح کہلاتا ہے، اور جب وہ خدا کی اجازت و اختیار کو اپنی مرضی سے اُس کی پسند کے خلاف استعمال کرے تو مجرم کہلاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل و شعور، ارادہ اور اختیار دیا ہے، اس کو سیدھا اور غلط راستہ واضح کرکے بتایا ہے، دونوں راستوں پر چلنے کا انجام بھی بتایا ہے اور پھر اس کو اپنی مرضی سے کسی ایک راستے پر چلنے کا اختیار بھی دیا۔ اس سے بندہ مجبور کہاں سے ہوگیا؟ اگر کہا جائے کہ خدا تعالیٰ کے حکم کے بغیر پتا بھی نہیں ہل سکتا تو انسان خود سے نیکی و بدی کیسے کرسکتا ہے؟ اللہ تعالیٰ کے علم اور قدرت میں ہے اگر وہ کسی کو زبردستی روکنا چاہے تو روک سکتا ہے اور بندہ ہو یا پتا حرکت نہیں کرسکتا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مرضی سے بندے کو اختیار دیا ہے کہ چاہے نیکی کرے، چاہے گناہ۔ نہ زبردستی نیکی کروائی جائے گی نہ برائی سے جبراً روکا جائے گا، یہ اختیار اگر انسان صحیح استعمال کرے تو کامیاب ہے اور غلط استعمال کرے تو ناکام ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2016-11-16


Your Comments