Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - خواب میں تبدیلئ مذہب کی کیا تعبیر ہے؟

خواب میں تبدیلئ مذہب کی کیا تعبیر ہے؟

موضوع: خواب اور بشارات

سوال پوچھنے والے کا نام: اقصی حیدر       مقام: نامعلوم

سوال نمبر 4020:
السلام علیکم مفتی صاحب! میں 24 سال کی غیرشادی شدہ خاتون ہوں۔ اکثر خواب میں ڈاکٹرصاحب کا دیدار کرتی رہتی ہوں اور بات چیت بھی، یہ خواب میں نے تھوڑا الگ دیکھا اس لیے پریشان ہوں اور اپنے بھائی کےذریعے جو خود بھی منھاج القران سے وابستہ ہیں آ پ سے خواب بیا ن کر رہی ہوں، برائے مھربانی تعبیر ارشاد فرمایئے۔ 27 اگست کی رات تقریباً 4 بجے میں‌ نے خواب میں‌ خود کو گھر سے باہر دیکھا، باہر یہودیوں کو دیکھا جو مسلمانوں کو قتل کر رہے ہیں،میں ان سے چھپتے چھپتے کسی اسکول میں چھپ گئی، پھر کچھ سوچا اور باہرآ گئی، میں نے مذہب تبدیل کر لیا، وہاں کوئی آدمی ہے جس نے میرامذہب تبدیل کرنے کا معلوم کیا، وہ آدمی یہودی مذہب کا پیروکارہےپھر قریب آ کر مجھ سے کچھ کہا (یاد نہیں)اور میرے ہاتھ پاوں کی پیمائش کی پھر مجھے کہی بھیجا، وہا ں کھانے کی میز ہےاور میرا بھائی بیٹھا ہوا ہےلیکن میں نے بھائی کو مخاطب نہں کیا اور نہ ہی ظاہر کیا، پھر کوئی بڑی عمر کا آدمی اندرآیا میں اس سے ملنے کے لیئے کھڑی ہو گئی دیکھا کہ وہ آدمی گنجا ہےچھوٹاسراور آنکھیں اندر ہیں داڑھی کے بال اتنے لمبے کہ فرش تک آرہےمیں کھڑی ہوئی تو اس کی داڑھی کے بال میرے پیر کے نیچھے تھے، اس نے مجھے بیٹھنے کا اشارہ کیا اور کھانے کے لئیے کچھ دیا میں نے کھانا نکالا لیکن بسمہ اللہ نہیں پڑھی تاکہ اس کو پتہ نا چل جائےاور کھایا بھی نہیں، ایسے ہی منہ تک لے گئی اور دل میں استغفار اور اللہ سے مدد مانگ رہی ہوں،پھر اس شخص نے اللہ اکبر کہا ساتھ کچھ اور بھی کہا (یاد نہیں) میں سمجھ گئی کہ یہ مجھے دیکھانے کے لئے پڑھ رہا ہے کہ آیا میں نے مذہب تبدیل کر لیا ہے کہ نہیں، پھر وہ شخص چلا گیا جیسے میرے مذہب تبدیل کرنے کا یقین ہو گیا ہو، پھر میں نے اس کے خادم سے میٹھا مانگا اس نے کالے چنے کی کوئی چیز کی طرف اشارہ کیا، میں نے کہا کہ میٹھا دواس نے سفید میٹھا دیا میں نے بسمہ اللہ پڑھ کر کھایا اور کچھ ارادہ کر کے اٹھی تھوڑا چلنے کے بعد چار یہودیوں کے مرنےکی خبر کانوں میں آیی ، پھر آنکھ کھل گئی (میٹھا اس شکل کا تھاجو لمبی داڑھی والےکی پلیٹ میں رکھا ہوا تھا)

جواب:

اپنے اعمال پر نظر ثانی کریں، فرائض کی ادائیگی میں سستی و کوتاہی کو دور کریں اور حسبِ توفیق صدقہ و خیرات کر دیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کے عقیدے کی حفاظت فرمائے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2016-10-19


Your Comments