Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا جنبی کا پسینہ ناپاک ہے؟

کیا جنبی کا پسینہ ناپاک ہے؟

موضوع: طہارت

سوال پوچھنے والے کا نام: ایاز محبوب       مقام: ابوظہبی

سوال نمبر 4012:
السلام علیکم مفتی صاحب! میرے دو سوال ہیں (1) خواب میں بارش اور برف باری دیکھنا کیسا ہے؟ (2) حالت جنابت میں جو پسینہ ہمارے جسم سے خارج ہوتا ہے اگر وہ کپڑوں‌ پر لگ جائے تو کیا ان کپڑوں‌ میں‌ نماز پڑھی جاسکتی ہے؟

جواب:

موسمِ سرما کے دوران خواب میں بارش اور برف دیکھنا خیر اور نیکی کی علامت، جبکہ موسمِ گرما میں ایسا خواب قحط اور غم سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

حالتِ جنابت میں آنے والا پسینہ کپڑوں پر لگ جائے تو اس سے کپڑا ناپاک نہیں ہوتا، ان کپڑوں میں نماز ہو جاتی ہے۔ لیکن خیال رہے کہ اگر جسم پر نجاست لگی تھی اور پسینہ آنے سے وہ گیلی ہوکر کپڑوں پر لگ گئی تو اس سے کپڑے ناپاک ہو جائیں گے۔ اگر کپڑے پر نجاست نہیں لگی صرف جنبی کا پسینہ لگا ہے تو کپڑے ناپاک نہیں ہوں گے۔

عَن أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا جُنُبٌ، فَأَخَذَ بِيَدِي فمشيت مَعَهُ حَتَّى قَعَدَ فَانْسَلَلْتُ. فَأَتَيْتُ الرَّحْلَ فَاغْتَسَلْتُ ثُمَّ جِئْتُ وَهُوَ قَاعِدٌ فَقَالَ: أَيْنَ كُنْتَ يَا أَبَا هُرَيْرَة؟ فَقُلْتُ لَهُ. فَقَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يَنْجَسُ.

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ مجھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ملے جبکہ میں حالتِ جنابت میں تھا، آپ نے میرا ہاتھ پکڑلیا اور میں آپ کے ساتھ چل پڑا حتیٰ کہ آپ بیٹھ گئے تو مَیں چپکے سے نکل گیا۔ میں گھر آیا، غسل کیا اور پھر حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہیں تشریف فرما تھے۔ آپ نے پوچھا اے ابوہریرہ کہاں تھے؟ میں نے واقعہ عرض کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سبحان اﷲ!مؤمن ناپاک نہیں ہوتا۔

  1. بخاري، الصحيح، 1: 109، رقم: 279، بيروت، لبنان: دار ابن کثير اليمامة
  2. مسلم، الصحيح، 1: 282، رقم: 371، بيروت، لبنان: دار احياء التراث العربي

درج بالا حدیثِ مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ انسان اصلاً ناپاک نہیں ہے۔ حالتِ جنابت میں بھی اس کے ساتھ مصافحہ، معانقہ کرنا اور بیٹھنا جائز ہے۔ اسی طرح جنبی کا پسینہ اور جوٹھا بھی نجس نہیں ہے۔۔۔۔

امام ابنِ عابدین شامی فرماتے ہیں:

سؤر الآدمی مطلقا ولو جنبا او کافرا طاهر و حکم العرق کسؤر.

آدمی کا جوٹھا مطلقاً پاک ہے، چاہے جنبی ہو یا کافر ہو اور پسینے کا حکم بھی جوٹھے جیسا ہے۔

شامی، الدرالمختار، 1/ 40، باب المياه، مطبوعه مجتبائی، دهلی

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2016-09-28


Your Comments