کیا حائضہ تبرک یا نیاز کھا سکتی ہے؟

سوال نمبر:3926
السلام علیکم! میرا سوال یہ ہے کہ جس چیز پر ختم شریف پڑھا جائے کیا وہ چیز حائضہ عورت کھا سکتی ہے؟

  • سائل: سحر قادریمقام: لاہور
  • تاریخ اشاعت: 06 مئی 2017ء

زمرہ: حیض

جواب:

زمانہ جاہلیت میں مختلف اقوام میں حائضہ عورتوں کے بارے میں عجیب و غریب تصورات رائج تھے۔ ایامِ مخصوص میں انہیں نجس سمجھتے ہوئے باقیوں سے الگ کر دیا جاتا تھا۔ اسلام نے آ کر ان تمام تصورات کو باطل قرار دیا، تاہم عورتوں کی آسانی کے لیے کچھ امور ان کے لیے ممنوع قرار دیے گئے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُواْ النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ وَلاَ تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللّهُ إِنَّ اللّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ.

اور آپ سے حیض (ایامِ ماہواری) کی نسبت سوال کرتے ہیں، فرما دیں: وہ نجاست ہے، سو تم حیض کے دنوں میں عورتوں سے کنارہ کش رہا کرو، اور جب تک وہ پاک نہ ہو جائیں ان کے قریب نہ جایا کرو، اور جب وہ خوب پاک ہو جائیں تو جس راستے سے اﷲ نے تمہیں اجازت دی ہے ان کے پاس جایا کرو، بیشک اﷲ بہت توبہ کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے اور خوب پاکیزگی اختیار کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔

البقره، 2: 222

اور ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:

عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ قَالَ لَا تَقْرَاَ الْحَائِضُ وَلَا الْجُنُبُ شَيْئًا مِنَ الْقُرْآنِ.

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حائضہ اور جنبی قرآن پاک سے کچھ نہ پڑھیں۔

ترمذي، السنن، 1: 236، رقم: 131، دار احياء التراث العربي، بيروت

امام الفقہ علامہ محمد بن علی بن محمد علاالدین حصنی دمشقی المعروف حصفکی اپنی کتاب الدر المختار شرح تنویر الابصار میں لکھتے ہیں:

فيها حيض يمنع صلاة و صوما و تقضيه و دخول مسجد و الطواف و قربان ما تحت اِزار و قرأة قرآن و مسه الا بغلافه و کذا ولا بأس بقرأة أدعية و مسها و حملها و ذکر الله تعالٰی، و تسبيح و أکل و شرب بعد مضمضة ، و غسل يد ولا يکره مس قرآن بکم و يحل و طؤها اِذا انقطع حيضها لأکثره.

مدت حیض میں دونوں خونوں کے درمیان جو پاکی واقع ہو وہ حیض ہی ہے، جو نماز و روزہ کے مانع ہے۔ البتہ روزوں کی قضاء کی جائےگی۔ مسجد میں داخل ہونے، طواف کعبہ اور قربت، تلاوتِ قرآن اور بغیر غلاف قرآن چھونے کے مانع ہے۔ دعائیں پڑھنے، اُنہیں چھونے اور ان کو اٹھانے، اللہ کا ذکر کرنے، تسبیح پڑھنے، کلی کرنے، ہاتھ دھونے کے بعد کھانے پینے سے ممانعت نہیں۔ آستین کے ساتھ قرآن چھونا منع نہیں۔ عورت کے حیض کی زیادہ مدت گذرنے پر اس کی قربت خون بند ہونے کے بعد مکروہ نہیں۔

حصفکي، الدرالمختار، 1: 290تا 294، دار الفکر، بيروت

درج بالا ممنوع امور کے علاوہ تمام کام کرنا جائز ہے۔ اس لیے حائضہ متبرک کھانا، نیاز، لنگر وغیرہ کھا سکتی ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟