کیا جوتے اور لکڑی سے رَمی کرنا جائز ہے؟

سوال نمبر:3733
بعض لوگ لکڑی یا جوتے سے رَمی کرتے ہیں، کیا ایسا کرنا جائز ہے؟

  • تاریخ اشاعت: 15 ستمبر 2015ء

زمرہ: حج  |  رمی

جواب:

لکڑی یا جوتے سے رمی کرنا جائز نہیں۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عقبہ کی صبح حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : چھوٹی چھوٹی کنکریاں چن لاؤ، میں چھوٹی چھوٹی سات کنکریاں چن لایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اپنے ہاتھ پر رکھ کر فرمایا : ہاں ایسی ہی کنکریاں مارو۔ پھر فرمایا : اے لوگو! تم دین میں زیادتی سے بچو کیونکہ تم سے پہلی اُمتیں دین میں زیادتی کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوئیں۔

ابن ماجه، السنن، کتاب المناسک، باب قدر حصی الرمی، 3 : 480، رقم : 3029

اس لئے رمی کرنے والے کو چاہئے کہ وہ راہِ اعتدال اختیار کرتے ہوئے چھوٹی کنکریاں مارے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوبیا کے دانہ کے برابر چھوٹی کنکریاں ماریں اور لوگوں سے فرمایا کہ لوبیا کے دانہ کے برابر کنکریاں حاصل کرو تاکہ جمرہ کو رمی کی جا سکے۔ لہٰذا لکڑی، جوتے یا بڑے کنکر مارنے سے گریز کرے کیونکہ ایسا کرنے سے نقصان بھی ہو سکتا ہے۔ لکڑی، جوتا یا بڑا کنکر کسی شخص کو بھی لگ سکتا ہے اور شدید نقصان کا موجب بن سکتا ہے۔ اسی لئے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر معاملہ میں اعتدال اور میانہ روی کا حکم دیا ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • کاروباری شراکت کے اسلامی اصول کیا ہیں؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟