Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
  وطن سے محبت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ 
فتویٰ آن لائن - کیا ’فرزندانِ توحید‘ کی اصطلاح کا استعمال درست ہے؟

کیا ’فرزندانِ توحید‘ کی اصطلاح کا استعمال درست ہے؟

موضوع: ایمانیات  |  توحید  |  متفرق مسائل

سوال پوچھنے والے کا نام: علی عمران       مقام: لاہور، پاکستان

سوال نمبر 3465:
السلام علیکم! کیا فرماتے ہیں علمائے اسلام کہ لفظ “فرزندان توحید“ لکھنا درست ہے؟ اور کیا اس سے توحید کی نفی اور عقیدہ عیسائیت کا اظہار نہیں ہوتا؟ اللہ تعالٰی تو توحید کو “لم یلد ولم یولد“ کہہ کر بیان فرما رہے ہیں، اور ہمارے یہاں قلمکار فرزندانِ توحید لکھ کر اس توحید کے ہزاروں لاکھوں فرزند بنا ڈالتے ہیں؟ براہ مہربانی تفصیل سے جواب مرحمت فرمائیں۔

جواب:

’’فرزندانِ توحید‘‘ سے مراد (معاذاللہ) توحید کے بیٹے نہیں بلکہ توحید پرست ہے، اور توحید پرست توحید کے ماننے والے کو کہا جاتا ہے۔ اس سے توحید کی نفی ہوئی اور نہ ہی عقیدہ عیسائیت کا اظہار ہوتا ہے۔ بلکہ اس کا معنیٰ یہ بن جاتا ہے کہ ’’خدائے واحد کے ماننے والے‘‘۔ اس میں شانِ ’لم یلد ولم یولد‘ کی بھی کسی طرح مخالفت نہیں ہوتی۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2015-01-21


Your Comments