صاحبِ حثیت کو پہلے حج کرنا چاہیے یا عمرہ؟

سوال نمبر:3153
السلام علیکم! میرا سوال یہ ہے کہ اگر کوئی صاحب حثیت ہے تو وہ پہلے حج کرے یا عمرہ؟اگر کوئی شخص گھریلو وجوہات کی وجہ سے پہلے عمرہ کر لیتا ہے تو کیا اب اس پر حج کرنا لازم ہے؟ اگر حج کرے گا تو کیا وہ گنہگار ہو گا؟ کیا اس کا عمرہ قبول بھی ہو گا یا نہیں؟

  • سائل: سید ارتضیمقام: پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 19 اپریل 2014ء

زمرہ: عبادات  |  حج  |  عمرہ کے احکام و مسائل

جواب:

عمرہ کرنے سے حج فرض نہیں ہوتا، حج صاحب استطاعت شخص پر فرض ہوتا ہے۔ جو استطاعت رکھتا ہے، حج کرے اور وہاں جا کر جتنے عمرے کر سکتے ہیں بے شک کریں، کوئی پابندی نہیں ہے۔ عمرہ کرنے کا وقت پہلے میسر ہو تو پہلے بھی کر سکتے ہیں۔

مزید مطالعہ کے لیے یہاں کلک کریں
حج کے بجائے عمرہ کرنے کی استطاعت ہو تو کیا عمرہ کیا جا سکتا ہے؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • کاروباری شراکت کے اسلامی اصول کیا ہیں؟
  • وطن سے محبت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟