Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا جس لڑکی سے جسمانی تعلقات بن جائیں اسی سے شادی کرنا لازمی ہو جاتا ہے؟

کیا جس لڑکی سے جسمانی تعلقات بن جائیں اسی سے شادی کرنا لازمی ہو جاتا ہے؟

موضوع: نکاح   |  معاشرتی آداب

سوال پوچھنے والے کا نام: نصیر احمد       مقام:

سوال نمبر 3139:
السلام علیکم ! میرا سوال یہ ہے کہ کیا جس لڑکی سے جسمانی تعلقات بن جائیں اسی سے شادی کرنا لازمی ہو جاتا ہے؟

جواب:

بہتر تو یہی ہے کہ جس لڑکی کے ساتھ آپ نے پہلے غلط کام کیا ہے اسی سے شادی کریں۔ تاکہ تم دونوں کے عیبوں پر پردہ پڑ جائے۔ کیونکہ بعد میں بھی اگر یہ پول کھل جائے تو کسی اور کی بھی زندگی خراب ہو جائے گی۔ لیکن ایسا لگ نہیں رہا کیونکہ آپ تو اس لڑکی کے بارے میں ہر وقت سوچتے ہیں لیکن اس کو آپ سے نفرت ہی اتنی ہو گئی ہے کہ وہ آپ سے بات تک نہیں کرنا چاہتی۔ شادی تو اسی وقت ممکن ہو سکتی ہے جب لڑکا لڑکی دونوں ایک دوسرے کو پسند کریں، ایسا نہیں کہ لڑکا تو لڑکی کو بہت پسند کرتا ہے لیکن وہ آپ کی شکل دیکھنے کو بھی گوارہ نہ کرے، ایسی صورت میں شادی نہیں کرنی چاہیے۔

اب معلوم نہیں اس میں کس کی غلطی ہے زیادہ امکان یہی ہے کہ آپ نے جو اس کو غلط استعمال کیا ہے اس وجہ سے وہ آپ سے نفرت کرنے لگ گئی ہے۔ بہر حال بہتر یہی تھا کہ آپ دونوں ہی آپس میں شادی کر لیتے لیکن یہاں ناممکن لگتا ہے۔ اس لیے کہ لڑکی کو مجبور نہیں کیا جا سکتا کہ وہ آپ کے ساتھ شادی کرے یہ تو دونوں طرف سے ہی پسند ہو پھر ممکن ہے۔

مزید مطالعہ کے لیے یہاں کلک کریں
لڑکے اور لڑکی کا شادی سے پہلے ایک دوسرے کو دیکھنا کیسا ہے؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2014-02-28


Your Comments