کیا تعمیر مسجد کے لیے قربانی کی کھالوں سے جمع رقوم استعمال کی جا سکتی ہیں؟

سوال نمبر:2769
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ کیا ہم قربانی کی کھالوں سے جمع رقوم کو ایسی مسجد میں استعمال کر سکتے ہیں جہاں مدرسہ تو موجود ہے مگر تعلیمی لحاظ سے فعال نہیں ہے اور جس وجہ سے طلبا کو مسجد میں ناظرہ کی تعلیم دی جاتی ہے اور مسجد زیر تعمیر ہے تو کیا ہم مسجد کی تعمیراتی کاموں میں کھالوں سے جمع رقوم کو استعمال کر سکتے ہیں؟

  • سائل: عبدالرزاقمقام: فیصل آباد پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 09 ستمبر 2013ء

زمرہ: مسجد کے احکام و آداب  |  قربانی کے احکام و مسائل

جواب:

مسجد کی تعمیر میں قربانی کی کھالوں کی رقوم استعمال کر سکتے ہیں، جائز ہے۔ لیکن یہ قابل غور بات ہے کہ مدرسہ تعلیمی لحاظ سے فعال نہیں ہے پھر اس کی مدد سوچ سمجھ کر کرنی چاہیے۔ اس لیے دیکھ لیں کہ فعال نہ ہونے کی وجہ وسائل کی کمی ہے یا تمام تر وسائل موجود ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ ان کو تعلیم کی بجائے کرپشن کی نظر کر دیا جائے۔ اگر وجہ وسائل کی کمی ہے تو ضرور اسی مسجد کو دیں، ورنہ کسی حقدار کی مدد کریں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • کاروباری شراکت کے اسلامی اصول کیا ہیں؟
  • وطن سے محبت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟