Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - موت کا اختیار کس کے پاس ہے؟

موت کا اختیار کس کے پاس ہے؟

موضوع: عقائد

سوال پوچھنے والے کا نام: امجد عرفان       مقام: لاہور، پاکستان

سوال نمبر 2456:
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں سورہ انعام آیت 2 میں فرمایا (مٹی سے پیدا کیا پھر ایک میعاد کا حکم رکھا)' اور پھر سورہ انعام آیت 151 میں فرمایا (اور جس جان کی اللہ نے حرمت رکھی اسے ناحق نہ مارو) ان دونوں‌ آیات مبارکہ کو سامنے رکھتے ہوئے کیسے ان میں‌ تطبیق پیدا کی جائے اور کیسے پتا چلے گا کہ موت کا صحیح اختیار کس کے پاس ہے؟

جواب:

ہم تقدیر کے نہیں بلکہ اللہ تعالی کے احکام کے پابند ہیں۔ تقدیر کا علم اللہ تعالی کو ہے۔ ہمیں جو حکم دیا گیا ہے اسی پر عمل کریں گے، کوئی شخص یہ نہیں کہے گا کہ میں نے اس کو قتل کر دیا ہے، اس کی تقدیر میں یہی لکھا تھا یا کوئی نماز نہ پڑھے اور کہے میری تقدیر میں یہی لکھا ہے، یہ سراسر غلط ہو گا۔ یہاں ان آیات میں تطبیق اس طرح ہو گی کہ معیاد یعنی تقدیر کا اللہ تعالی کو ہی علم ہے، لیکن جب اس کا حکم ہو تو اس پر عمل کرو یعنی جو کسی کو قتل کرے، اس کے بدلے میں اللہ تعالی کے حکم پر عمل کرتے ہو قاتل کو بھی قتل کر دو، دوران جنگ مقابلے میں آنے والوں کو قتل کرو، یہ ان کی تقدیر میں لکھا ہوتا ہے، لیکن ہمیں معلوم نہیں ہم نے تو اللہ تعالی کے حکم پر عمل کیا ہے۔ لہذا موت کا اختیار اللہ تعالی کے پاس ہے ہم اس کے احکام کے پابند ہیں جو حکم ہو گا اس پر عمل کریں گے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2013-03-26


Your Comments