کیا سنی لڑکی دوسرے مسلک میں نکاح کر سکتی ہے؟

سوال نمبر:2178
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ کیا ایک سنی مسلک کی لڑکی کسی دوسرے مسلک کے آدمی سے نکاح کر سکتی ہے؟

  • سائل: یاسمین ظہورمقام: لاہور، پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 28 ستمبر 2012ء

زمرہ: نکاح   |  ایمانیات

جواب:

اگر کوئی شخص قرآن پاک میں تحریف کا قائل نہیں بلکہ قرآن کریم کو محفوظ اور خدا کا کلام مانتا ہے، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور ازواج مطہرات کا گستاخ نہیں، امہات المؤمنین کو اہل بیت میں شمار کرتا ہے، چاروں خلفائے راشدین کو برحق مانتا ہے ہو اور ان کے جنتی ہونے کا عقیدہ رکھتا ہے، سیدنا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے بعد چوتھا خلیفہ مانتا ہے اور کسی صحابئ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالی گلوچ نہیں کرتا تو ایسے شخص سے سنی لڑکی نکاح کر سکتی ہے۔ اگر اس کے عقائد مذکورہ بالا عقائد کے برعکس ہوں تو وہ شخص بد عقیدہ ہے، اور صحیح العقیدہ سنی لڑکی کا نکاح بدعقیدہ سے نہیں ہو سکتا۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟