Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا سنی لڑکی دوسرے مسلک میں نکاح کر سکتی ہے؟

کیا سنی لڑکی دوسرے مسلک میں نکاح کر سکتی ہے؟

موضوع: نکاح   |  ایمانیات

سوال پوچھنے والے کا نام: یاسمین ظہور       مقام: لاہور، پاکستان

سوال نمبر 2178:
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ کیا ایک سنی مسلک کی لڑکی کسی دوسرے مسلک کے آدمی سے نکاح کر سکتی ہے؟

جواب:

اگر کوئی شخص قرآن پاک میں تحریف کا قائل نہیں بلکہ قرآن کریم کو محفوظ اور خدا کا کلام مانتا ہے، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور ازواج مطہرات کا گستاخ نہیں، امہات المؤمنین کو اہل بیت میں شمار کرتا ہے، چاروں خلفائے راشدین کو برحق مانتا ہے ہو اور ان کے جنتی ہونے کا عقیدہ رکھتا ہے، سیدنا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے بعد چوتھا خلیفہ مانتا ہے اور کسی صحابئ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالی گلوچ نہیں کرتا تو ایسے شخص سے سنی لڑکی نکاح کر سکتی ہے۔ اگر اس کے عقائد مذکورہ بالا عقائد کے برعکس ہوں تو وہ شخص بد عقیدہ ہے، اور صحیح العقیدہ سنی لڑکی کا نکاح بدعقیدہ سے نہیں ہو سکتا۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2012-09-28


Your Comments