Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا زنا کرنے والے جوڑے کا نکاح پڑھانے سے امام کا نکاح ٹوٹ جاتا ہے؟

کیا زنا کرنے والے جوڑے کا نکاح پڑھانے سے امام کا نکاح ٹوٹ جاتا ہے؟

موضوع: نکاح   |  اسقاط حمل/عزل   |  زنا و بدکاری   |  ایمانیات  |  شرائط نکاح   |  محرمات نکاح   |  زنا و بدکاری   |  حرام

سوال پوچھنے والے کا نام: خان       مقام: ملتان

سوال نمبر 2097:
السلام علیکم ایک مسئلہ ہے کسی فرد نے شادی سے پہلے اپنی کسی رشتہ دار عورت سے ہم بستری کی جس سے اس کو حمل ٹھہر گیا اور وہ 3 یا 4 ماہ کا ہو تو کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں؟ کیا اس کا یہ حمل گرا دیا جائے گا یا وہ اس کو جنم دے، اور کیا اس صورت میں وہ اگر بتا دے کے فلاں شخص اس میں شامل ہے کیا اس سے اس کا نکاح کروا دیا جائے تو یہ جائز ہے؟ کیا اس طرح ان کا نکاح جائز ہو گا یا نہیں اور نکاح ہو جانے کے بعد وہ بچہ اگر جنم دے تو کیا وہ جائز ہے؟ مشہور ہے کہ اگر کوئی ایسا نکاح کروائے گا تو ان کا اپنا نکاح بھی ختم ہو جائے گا اس میں کیا صداقت ہے؟

جواب:

1۔ حمل ٹھہر جانے کے بعد 120 دن کے اندر حمل گرانا جائز ہے اس کے بعد جائز نہیں ہے۔ حدیث پاک میں ہے :

ان احدکم يجمع فی بطن أمه أربعين يوما ثم علقة مثل زلک ثم يکون مضغة مثل ذلک ثم يبعث الله ملکا فيؤمر بأربع برزقه واجله وشقی أو سعيد.

"تم میں سے ہر ایک اپنی ماں کے پیٹ میں چالیس دن گزارتا ہے (نطفہ) پھر اسی قدر علقہ پھر اسی قدر مضغہ پھر اللہ فرشتہ بھیجتا ہے اور چار چیزوں کا حکم ہوتا ہے۔ رزق، عمر، نیک بخت یا بدبخت"۔

بخاری، الصحيح، 2 : 976، طبع کراچی

فقہائے کرام فرماتے ہیں:

هل يباح الاسقاط بعد الحبل يباح ما لم يتخلق شئی منه، ثم فی غير موضع ولا يکون ذلک الا بعد مائة وعشرين يوما انهم ارادا بالتخليق نفخ الروح.

کیا حمل ٹھرنے کے بعد ساقط کرنا جائز ہے؟ (ہاں) جب تک اس کی تخلیق نہ ہو جائے جائز ہے۔ پھر متعدد مقامات پر تصریح ہے کہ تخلیق کا عمل 120 دن یعنی چار ماہ کے بعد ہوتا ہے اور تخلیق سے مراد روح پھونکنا ہے۔

1. ابن عابدين شامی، رد المختار، 3 : 76، طبع کراچی، پاکستان

2. ابن همام، فتح القدير، 3 : 274، طبع سکهر، پاکستان

2۔ اگر وہ رشتہ محرمات میں سے نہ ہو تو سب سے بہتر ہے زانی اور زانیہ کا ہی آپس میں نکاح کیا جائے۔ جائز ہے۔

3۔ نکاح سے پہلے جو حمل ٹھہر گیا وہ بچہ تو حرامی ہی ہو گا۔ لیکن انہیں اس کی کفالت کرنی چاہیے کیونکہ بچے کا اس میں کوئی گناہ نہیں ہے۔

4۔ جب کوئی محرمات میں سے کسی کے ساتھ زنا کرے یہ صورت اس وقت ہوتی ہے۔ مثلا کسی نے اپنی بہو، پھوپھی، بھانجی وغیرہ سے زنا کیا تو جانتے ہوئے کہ ان سے نکاح جائز نہیں پھر بھی کوئی نکاح پڑھائے اس وقت کا نکاح ختم ہو گیا۔ یعنی جان بوجھ کر اللہ تعالی کی حدوں کو توڑ لے اور ان کا مذاق اڑائے گا تو دائرہ اسلام سے خارج ہو جائے گا اس لیے اس کی بیوی سے نکاح بھی قائم نہیں رہے گا۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2012-10-10


Your Comments