بیٹھ کر نماز پڑھنے کی صورت میں رکوع میں جھکنے کی مقدار کیا ہے؟

سوال نمبر:1287
السلام علیکم نفل نماز بیٹھ کر کیوں‌ پڑھتے ہیں؟ اور اس میں رکوع میں جھکنے کی مقدار کیا ہے؟

  • سائل: فیصل اکرممقام: نواب شاہ، سندھ، پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 27 دسمبر 2011ء

زمرہ: نماز  |  نفلی نمازیں   |  نفل  |  عبادات

جواب:

نفل نماز بیٹھ کر پڑھنے کی اجازت ہے، قیام پر قدرت ہونے کے باوجود نفل نماز بیٹھ کر پڑھ سکتا ہے، اس لیے کہ جب اس کے لیے اس بات کی گنجائش ہے کہ وہ اصل نماز (نفل) نہ پڑھے تو ترک وصف کی گنجائش بطریق اولی ہوگی۔ البتہ بیٹھ کر نفل نماز پڑھنے سے نصف ثواب ملتا ہے۔ کیونکہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے :

صلاة الرجل قاعدا نصف الصلاة.

بیٹھ کر نماز ادا کرنا آدھی نماز ہے۔

(المختصر قدوری شريف)

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھ کر بھی نماز ادا فرما لیا کرتے تھے۔

جھکنے کی مقدار

اتنا جھکنا چاہیے کہ کوئی دیکھنے والا یہ تصور نہ کرے کہ سجدہ کر رہا ہے، رکوع اور سجدہ میں واضح فرق ہونا چاہیے، یعنی اس کا ماتھا اور ناک زمین پر نہ لگے، سجدہ سے قریب تر نہیں ہونا چاہیے۔

مزید مطالعہ کے لیے یہاں کلک کریں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟