Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا انشورنس کے جواز سے متعلق کوئی دلیل بھی ہے؟

کیا انشورنس کے جواز سے متعلق کوئی دلیل بھی ہے؟

موضوع: بیمہ و انشورنس   |  انسانوں کی انشورنس   |  جائداد کی انشورنس

سوال پوچھنے والے کا نام: محسن ندیم       مقام: سعودی عربیہ

سوال نمبر 992:
انشورنس کے متعلق ہم نے جب سنا کہ یہ ناجائز ہے۔ آپ نے ایک سوال کے جواب میں اس کو جائز قرار دیا برائے مہربانی مواد عطا کر دیں تا کسی اور کو بھی مطمئن کیا جا سکے۔

جواب:
زندگی کا بیمہ یا انشورنس کا مطلب ہے کہ آدمی خود یا اس کی جائیداد خدانخواستہ کسی بھی وقت کسی حادثہ سے دوچار ہوسکتے ہیں جس کے نتیجے میں اس کے پسماندگان مثلاً والدین، بیوی اور بچے جو عام حالات میں اس کے زیر کفالت تھے وہ فقر و فاقہ اور سنگین مالی، معاشی اور سماجی مشکالات کا شکار ہونگے۔ چونکہ بیمہ  حکومت یا اس کی مجاز کمپنیاں کرتی ہیں، وہ متاثرہ شخص، اشخاص یا ادارے سے بیمہ کرنے کے عوض متعین رقم وصول کرتی ہیں جو متعین مدت کے لیے ہوتی ہے۔ اگر اس معاہدے کے دوران وہ شخص یا چیز ہلاک ہو جائے تو کمپنی مقرر شدہ معاوضہ ادا کرتی ہے۔ اگر مقررہ مدت تک وہ شخص یا چیز سلامت ہے تو کمپنی جمع شدہ رقم سے دوگنی یا کم و بیش اسے ادا کر دیتی ہے۔ اس میں نہ جوا ہے اور نہ سود لہذا بیمہ جائز ہے۔

من انکر فعليه البيان بالدليل.

جو انکار کرے اس پر دلیل لازم ہے کہ وہ بھی دلیل پیش کرے۔

یہی بات اعلیٰحضرت مولانا شاہ احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے احکام شریعت  میں بیان فرمائی ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2011-05-19


Your Comments