Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا نوکری کے لیے جھوٹ بول سکتے ہیں؟

کیا نوکری کے لیے جھوٹ بول سکتے ہیں؟

موضوع: جدید فقہی مسائل

سوال پوچھنے والے کا نام: یاور اقبال       مقام: فیصل آباد، پاکستان

سوال نمبر 991:
جھوٹ بولنا کن صورتو‌ں میں جائز ہے؟ اگرجاب کے لیے اپلائی کرتے ہوئے جھوٹ بولا یا سی وی میں سابقہ تجربے کے متعلق کچھ غلط بیان کیا اور جاب حاصل کر لی تو کیا حرام کمائے گا؟ اسی طرح اگر کام کے لیے باہر ملک جانے کا ارادہ ہو اور ویزہ کے لیے جھوٹ بولا جائے (جیسے کام کا تجربہ یا تعلیم کے بارے جھوٹ) تو کمائی حلال رہے گی یا حرام ہو جائے گی؟ یوں ہی ملازمت تبدیل کرتے ہوے سابقہ تنخواہ بی زیادہ بتائی جاتی ہے؟ کیا یہ رزق کو حرام کر دیتا ہے؟ جزاک اللہ۔

جواب:
جھوٹ بولنا گناہ ہے اس سے بچنا چاہیے۔ البتہ اگر آپ دیانتداری کے ساتھ اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہیں تو کمائی حلال ہو گی۔ جھوٹ بولنے پر توبہ کریں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: صاحبزادہ بدر عالم جان

تاریخ اشاعت: 2011-05-27


Your Comments