کیا نوکری کے لیے جھوٹ بول سکتے ہیں؟

سوال نمبر:991
جھوٹ بولنا کن صورتو‌ں میں جائز ہے؟ اگرجاب کے لیے اپلائی کرتے ہوئے جھوٹ بولا یا سی وی میں سابقہ تجربے کے متعلق کچھ غلط بیان کیا اور جاب حاصل کر لی تو کیا حرام کمائے گا؟ اسی طرح اگر کام کے لیے باہر ملک جانے کا ارادہ ہو اور ویزہ کے لیے جھوٹ بولا جائے (جیسے کام کا تجربہ یا تعلیم کے بارے جھوٹ) تو کمائی حلال رہے گی یا حرام ہو جائے گی؟ یوں ہی ملازمت تبدیل کرتے ہوے سابقہ تنخواہ بی زیادہ بتائی جاتی ہے؟ کیا یہ رزق کو حرام کر دیتا ہے؟ جزاک اللہ۔

  • سائل: یاور اقبالمقام: فیصل آباد، پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 27 مئی 2011ء

زمرہ: جدید فقہی مسائل

جواب:
جھوٹ بولنا گناہ ہے اس سے بچنا چاہیے۔ البتہ اگر آپ دیانتداری کے ساتھ اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہیں تو کمائی حلال ہو گی۔ جھوٹ بولنے پر توبہ کریں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: صاحبزادہ بدر عالم جان

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟