Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا رسول اللہ (ص) کی داڑھی مبارک قدرتی طور پر قبضہ تھی؟

کیا رسول اللہ (ص) کی داڑھی مبارک قدرتی طور پر قبضہ تھی؟

موضوع: داڑھی کی شرعی حیثیت   |  سیرت

سوال پوچھنے والے کا نام: عمر اجمل       مقام: پاکستان

سوال نمبر 965:
میں نے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے بیان میں‌ سنا ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام داڑھی مبارک جب قبضہ سے بڑھتی تو اسے کٹوا دیتے۔ لیکن کچھ علماء یہ بھی کہتے ہیں کہ آپ علیہ والصلوۃ والسلام کی داڑھی مبارک قدرتی طور پر آئی ہی قبضہ بھر تھی اس سے بڑھتی نہیں تھی۔ مہربانی کر کے بتا دیں‌ کہ ان میں سے کون سا قول صحیح ہے؟ جس حدیث میں آیا ہے کہ آپ علیہ والصلوۃ والسلام اپنی داڑھی مبارک کٹوا دیتے تھے اس کا حوالہ بتا دیں۔ اگر دونوں احادیث میں ہیں تو دونوں کا حوالہ بتا دیں۔

جواب:
جو حدیث پاک شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری صاحب نے پیش کی ہے وہ حدیث پاک یہ ہے۔ امام ترمذی رحمہ اللہ نے باب باندھا ہے "باب ما جاء فی الاخذ من اللحيه" داڑھی سے کچھ کاٹنے کے بیان میں۔

عن عمرو بن شعيب عن ابيه عن جده ان النبی صلی الله عليه وآله وسلم کان ياخذ من لحيته من عرضها وطولها.

(جامع ترمذی، ج : 2، ص : 100)

عمرو بن شعیب اپنے والد اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی داڑھی چوڑائی اور لمبائی میں کم کرتے تھے۔

کٹوانے پر یہ حدیث پاک واضح دلیل ہے اگر پہلے سے قبضہ بھر ہوتی تو کٹوانے کی ضرورت کیا؟ تمام فقہاء نے لکھا ہے کہ قبضہ بھر داڑھی رکھنا سنت ہے اور قبضہ سے زیادہ کٹوانا جائز ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2011-05-12


Your Comments