کمزور ایمان والوں پر شیطان کیسے حملہ آور ہوتا ہے؟

سوال نمبر:96
کمزور ایمان والوں پر شیطان کیسے حملہ آور ہوتا ہے؟

  • تاریخ اشاعت: 20 جنوری 2011ء

زمرہ: عقائد  |  ایمانیات

جواب:
کافر لوگ تو پہلے ہی شیطان کے راستے پر چل رہے ہوتے ہیں جبکہ کامل مومنین پر

شیطان کا حملہ کرنا ذرا مشکل ہوتا ہے۔ شیطانی عزائم کے بارے میں قرآن حکیم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :

’’میں ضرور ان سب کو گمراہ کر کے رہوں گا، سوائے تیرے ان برگزیدہ بندوں کے جو (میرے اور نفس کے فریبوں سے) خلاصی پا چکے ہیں۔‘‘

الحجر، 15 : 40

اس لیے شیطان کامل ایمان والے لوگوں سے زیادہ کمزور ایمان والوں کو گمراہ کرنے میں جلد کامیاب ہو جاتا ہے کیونکہ اس نے قسم کھائی ہوئی ہے :

’’میں (بھی) ان (افراد بنی آدم کو گمراہ کرنے) کے لئے تیری سیدھی راہ پر ضرور بیٹھوں گا (تاآنکہ انہیں راہ حق سے ہٹا دوں)۔‘‘

الاعراف، 7 :

16اعمال صالحہ کی کمی ایمان میں کمزوری کا سبب بنتی ہے۔ ایمان پختہ نہ ہونے کی وجہ سے شیطان دلوں میں وسوسے اور شکوک و شبہات پیدا کرتا ہے۔ مثلاً یہ وسوسے کہ وجود باری تعالیٰ کی حقیقت، کیا ہے، جنت و دوزخ کا وجود ہے یا نہیں۔ یہ شکوک و شبہات ایمان اور یقین کو کمزور کرتے چلتے جاتے ہیں۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

’’بے شک وہ خود (شیطان) اور اس کا قبیلہ تمہیں (ایسی ایسی جگہوں سے) دیکھتا (رہتا) ہے جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھ سکتے۔‘‘

الاعراف، 7 : 27

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟