Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا صرف ایک مرد اور اس کی بیوی باجماعت نماز ادا کرسکتے ہیں؟

کیا صرف ایک مرد اور اس کی بیوی باجماعت نماز ادا کرسکتے ہیں؟

موضوع: عبادات  |  نماز  |  نماز با جماعت

سوال پوچھنے والے کا نام: عدنان‌ کبیر       مقام: بریڈ فورڈ، یوکے

سوال نمبر 938:
کیا صرف ایک مرد اور اس کی بیوی باجماعت نماز ادا کرسکتے ہیں؟ اگر وہ سفر میں‌ ہوں اور اس کا طریقہ کیا ہوگا؟ مرد امام بنے گا اور عورت کہاں کھڑی ہو گی اور کیا وہ اقامت کروائے گی؟

جواب:

مرد اور اسکی بیوی باجماعت نماز ادا کر سکتے ہیں چاہے سفر میں ہوں یا گھر پر۔ مرد امام ہوگا اور بیوی اس کے پیچھے کھڑی ہوگی۔ اقامت ضروری نہیں کہ مقتدی ہی پڑھے وہ امام بھی پڑھ سکتاہے۔ باقی احکام وہی ہیں جو جماعت کے لیے ہیں۔

امام کاسانی بدائع الصنائع میں لکھتے ہیں :

ایک مرتبہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام مسجد تشریف لائے تو نماز ہوچکی تھی۔ آپ گھر تشریف لے گے فجمع اهله فصلی بهم جماعة آپ نے اپنے گھر والوں کو جمع کر کے ان کو نماز پڑھائی۔

(بدائع الصنائع 1 / 153)

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: صاحبزادہ بدر عالم جان

تاریخ اشاعت: 2011-04-30


Your Comments