کیا صرف ایک مرد اور اس کی بیوی باجماعت نماز ادا کرسکتے ہیں؟

سوال نمبر:938
کیا صرف ایک مرد اور اس کی بیوی باجماعت نماز ادا کرسکتے ہیں؟ اگر وہ سفر میں‌ ہوں اور اس کا طریقہ کیا ہوگا؟ مرد امام بنے گا اور عورت کہاں کھڑی ہو گی اور کیا وہ اقامت کروائے گی؟

  • سائل: عدنان‌ کبیرمقام: بریڈ فورڈ، یوکے
  • تاریخ اشاعت: 30 اپریل 2011ء

زمرہ: عبادات  |  نماز  |  نمازِ باجماعت کے احکام و مسائل

جواب:

مرد اور اسکی بیوی باجماعت نماز ادا کر سکتے ہیں چاہے سفر میں ہوں یا گھر پر۔ مرد امام ہوگا اور بیوی اس کے پیچھے کھڑی ہوگی۔ اقامت ضروری نہیں کہ مقتدی ہی پڑھے وہ امام بھی پڑھ سکتاہے۔ باقی احکام وہی ہیں جو جماعت کے لیے ہیں۔

امام کاسانی بدائع الصنائع میں لکھتے ہیں :

ایک مرتبہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام مسجد تشریف لائے تو نماز ہوچکی تھی۔ آپ گھر تشریف لے گے فجمع اهله فصلی بهم جماعة آپ نے اپنے گھر والوں کو جمع کر کے ان کو نماز پڑھائی۔

(بدائع الصنائع 1 / 153)

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: صاحبزادہ بدر عالم جان

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • کاروباری شراکت کے اسلامی اصول کیا ہیں؟
  • وطن سے محبت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟