کیا ننگے سر اور جوتے پہن کر قرآن پاک کی تلاوت کی جاسکتی ہے؟

سوال نمبر:928
آفس میں اگر کام نا ہو تو کرسی پر بیٹھے ہوئے کمپوٹر پر یا قرآن پاک کو ٹیبل پر رکھ کر تلاوت کی جا سکتی ہے جبکہ پاؤں میں جوتے بھی ہیں سر بھی ننگا ہے اور ہر آنے جانے والے سے سلام اور گفتگو بھی ہوتی ہے

  • سائل: محمد ابرا ہیم جانمقام: ینبع البحر، سعودی عرب
  • تاریخ اشاعت: 26 اپریل 2011ء

زمرہ: تلاوت‌ قرآن‌ مجید

جواب:
یہ تمام باتیں خلاف ادب ہے۔ بحیثیت مسلمان اپنی عظیم الشان کتاب قرآن مجید جو کہ کلام اللہ ہے کی تعظیم و توقیر ہم پر ضروری ہے۔

قرآن مجید سے فیوضات اور برکات حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کی تعظیم اور احترام کیا جائے۔ اس کا باقی کتابوں کی طرح نہ مطالعہ ہو اور نہ ننگا سر اور جوتوں سمیت تلاوت کیا جائے۔ شریعت میں کسی اور کتاب کو چھونے کے لیے وضو کا حکم نہیں دیا گیا ہے اور نہ ہی کسی اور کتاب کے لیےجلد اور غلاف کا اہتمام کیا جاتا ہے لہذا یہ اللہ مجدہ کا کلام ہے اس کی تلاوت کے آداب ضرور ملحوظ خاطر ہوں۔

دوران تلاوت گفتگو کرنا یہ بھی آداب کے خلاف ہے اس لیے فالتو گفتگو سے اجتناب کرنا چاہیے۔ اللہ پاک ہمیں اپنی عظیم کتاب پڑھنے اور اسکی توقیر کی توفیق عطا کرے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: صاحبزادہ بدر عالم جان

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟