Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا نانی کا دودھ پینے والے کا رشتہ اپنی خالہ زاد سے ہو سکتا ہے؟

کیا نانی کا دودھ پینے والے کا رشتہ اپنی خالہ زاد سے ہو سکتا ہے؟

موضوع: نکاح   |  احکام رضاعت

سوال پوچھنے والے کا نام: سلیم احمد       مقام: ریاض، سعودی عرب

سوال نمبر 921:
میرا سوال رضاعت کے بارے میں ہے۔ ایک بچے نے چھ ماہ کی عمر میں اپنی نانی کا دودھ پییا تھا جو اپنی بچی کو بھی اس وقت دودھ پلا رہی تھی۔ اس کے علاوہ اس کی تین بہنیں ش ، ز ، ک ہیں۔

1۔ کیا اس کا رشتہ ش کی بیٹی سے ہو سکتا ہے؟

2۔ کیا اس کے بھائی اور بہن بھی اس سے متاثر ہوں گے؟

3۔ کیا اس کے بھائی کا رشتہ ش کی بیٹی سے ہو سکتا ہے؟

جواب:
بچے نے اپنی نانی کا دودھ پیا تھا لہذا نانی کی تمام اولاد اس بچے کے بھائی اور بہن ہیں۔ اس کا رشتہ ش کی بیٹی سے نہیں ہو سکتا اس لیے کہ یہ اس کی بھانجھی ہے۔ اگرچہ نسب کی وجہ سے رشتہ میں خالہ کی بیٹی ہے مگر رضاعت کی وجہ سے بھانجھی بن گئی اور بھانجھی سے نکاح حرام ہے۔ حدیث پاک میں آتا ہے :

يحرم من الرضاعة ما يحرم من النسب. (او کما قال)

نسب سے جو رشتے حرام ہیں وہ رضاعت سے بھی حرام ہیں۔

اس کے بھائی اور بہن جنہوں نے دودھ نہیں پیا ہے وہ متاثر نہیں ہونگے اور اس کے بھائی کا رشتہ ش کی بیٹی کے ساتھ جائز ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: صاحبزادہ بدر عالم جان

تاریخ اشاعت: 2011-04-25


Your Comments