الکحل ملے ہوئے پرفیوم کا کیا حکم ہے؟

سوال نمبر:920
الکحل ملے ہوئے پرفیوم کا کیا حکم ہے؟ کیا وہ ناپاک ہے؟ کیا اس کو استعمال کرنا گناہ ہے؟ کیا اس کو لگا کر نماز پڑھنا ناجائز ہے؟ الکحل سے مراد وہ الکحل جس میں کیمیکلز ملا کر اس کی حقیقت بدل کر پرفیوم میں ملایا جاتا ہے، اور اس کے پینے پر طبی اعتبار سے نقصانات ہیں، کیا اس کا استعمال جائز ہوگا؟ جائز ہو تو اس کی کیا دلیل ہے اور ناجائز ہے تو اس کی کیا وجہ ہے؟

  • سائل: علیمقام: انڈیا
  • تاریخ اشاعت: 25 اپریل 2011ء

زمرہ: سپرے(پرفیوم) کا حکم   |  جدید فقہی مسائل  |  نماز

جواب:
الکحل تھوڑی مقدار میں استعمال ہو تو جائز ہے۔ پرفیوم لگاتے وقت یہ ہوا میں اڑ جاتی ہے اور اس کا اثر باقی نہیں رہتا۔ لہذا ایسے پرفیوم کے ساتھ نماز جائز ہے اس میں کوئی گناہ نہیں ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: صاحبزادہ بدر عالم جان

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • کاروباری شراکت کے اسلامی اصول کیا ہیں؟
  • وطن سے محبت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟