Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - الکحل ملے ہوئے پرفیوم کا کیا حکم ہے؟

الکحل ملے ہوئے پرفیوم کا کیا حکم ہے؟

موضوع: سپرے(پرفیوم) کا حکم   |  جدید فقہی مسائل  |  نماز

سوال پوچھنے والے کا نام: علی       مقام: انڈیا

سوال نمبر 920:
الکحل ملے ہوئے پرفیوم کا کیا حکم ہے؟ کیا وہ ناپاک ہے؟ کیا اس کو استعمال کرنا گناہ ہے؟ کیا اس کو لگا کر نماز پڑھنا ناجائز ہے؟ الکحل سے مراد وہ الکحل جس میں کیمیکلز ملا کر اس کی حقیقت بدل کر پرفیوم میں ملایا جاتا ہے، اور اس کے پینے پر طبی اعتبار سے نقصانات ہیں، کیا اس کا استعمال جائز ہوگا؟ جائز ہو تو اس کی کیا دلیل ہے اور ناجائز ہے تو اس کی کیا وجہ ہے؟

جواب:
الکحل تھوڑی مقدار میں استعمال ہو تو جائز ہے۔ پرفیوم لگاتے وقت یہ ہوا میں اڑ جاتی ہے اور اس کا اثر باقی نہیں رہتا۔ لہذا ایسے پرفیوم کے ساتھ نماز جائز ہے اس میں کوئی گناہ نہیں ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: صاحبزادہ بدر عالم جان

تاریخ اشاعت: 2011-04-25


Your Comments

اس زمرہ میں دیگر کوئی سوال موجود نہیں