Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - ہندو کو سلام کا جواب کیسے دیا جائے؟

ہندو کو سلام کا جواب کیسے دیا جائے؟

موضوع: سلام کرنا

سوال پوچھنے والے کا نام: عائشہ عفت       مقام: حیدرآباد انڈیا

سوال نمبر 904:
ہمارا سوال یہ ہے کہ ایک ہندو غیر مسلمان کسی مسلمان کو سلام کرے تو ہمیں جواب دینا چاہیے یا نہیں؟ اور کیا ایک مسلمان کسی ہندو سے سلام کر سکتا ہے یا نہیں؟ ہمیں کسی ہندو شخص نے سلام کیا پر ہم خاموش رہے کیونکہ ہمیں‌ جواب نہیں معلوم تھا۔

جواب:
آقا علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا جب یہود تم کو سلام کریں تو جواب میں کہو وعلیکم (بحوالہ مشکوۃ : 197) یہ کافی ہے۔ اگر سلام سے جواب دو تو بھی کوئی حرج نہیں اس لیے کہ اسلام محبت اور امن کا دین ہے۔ آج کل غیر مسلم ہمارے ایک ایک فعل کو نوٹ کر رہے ہیں اس لیے آج کا تقاضا ہے اور آپ سمجھتے ہیں کہ ان کے سلام کا پورا جواب دینے سے الفت پیدا ہوگی تو کوئی حرج نہیں۔

اعلیٰ حضرت رحمہ اللہ فرماتے ہیں جس لفظ سے مناسب سمجھے جواب دے اگرچہ سلام کے جواب میں سلام ہی کہے۔

(فتاوی رضویہ، کتاب الخطر والاباھۃ، 5 / 66)

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: صاحبزادہ بدر عالم جان

تاریخ اشاعت: 2011-04-14


Your Comments