کیا رضاعی بہن سے شادی ہو سکتی ہے؟

سوال نمبر:889
میں نے بچپن میں اپنی بڑی خالہ کا دودھ پیا تھا۔ انہی دنوں میں میری ہم عمر میری ایک خالہ زاد بہن بھی اپنی ماں یعنی میری خالہ کا دودھ پیتی تھی، یعنی وہ میری دودھ شریک بہن ہوگئی، اس لیے اسکے ساتھ تو میرا نکاح کرنا حرام ہونا معلوم ہے۔ مگر پوچھنا یہ ہے کہ کیا میں اسکی سگی بڑی بہن سے نکاح کرسکتا ہوں؟ جبکہ اس بڑی بہن نے میرے ہمراہ کبھی اپنی ماں یعنی میری خالہ کا دودھ نہیں پیا، بلکہ اس نے بہت سال پہلے اپنے وقت میں پیا تھا۔ براہ مہربانی قرآن و سنت کی روشنی میں تفصیلی جواب عنایت فرمائیں۔ شکریہ۔

  • سائل: سید احمد حسینمقام: حیدرآباد، انڈیا
  • تاریخ اشاعت: 14 اپریل 2011ء

زمرہ: نکاح   |  احکام رضاعت

جواب:
صورت مسؤلہ میں آپ کا نکاح خالہ زاد بہن سے جائز نہیں ہے چاہے وہ بڑی ہو یا چھوٹی۔

حدیث مبارکہ میں آتا ہے :

يحرم من الرضاع ما يحرم من النسب. (اوکما قال)

نسب سے جو رشتے حرام ہیں وہی رضاعت (دودھ پینے) سے بھی حرام ہوجاتے ہیں۔

ھدایہ میں ہے :

ولا باُمّه من الرضاعة ولا باخته من الرضاعة.

اپنی رضاعی ماں اور رضاعی بہن سے نکاح جائز نہیں ہے۔

آپ کی خالہ کی تمام بیٹیاں آپ کی رضاعی بہنیں ہیں اس لیے ان کے ساتھ آپ کا نکاح جائز نہیں ہے البتہ آپ کا دوسرا بھائی جس نے اس خالہ کا دودھ نہیں پیا وہ ان کی بیٹیوں سے شادی کر سکتا ہے۔ چونکہ رضاعت کی وجہ سے خالہ آپ کی ماں بن گئی ہے اس لیے اس کی ساری اولاد آپ کے رضاعی بہن بھائی ہیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: صاحبزادہ بدر عالم جان

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟