اگر کوئی غیر مسلم آقا علیہ الصلوۃ‌ والسلام کا نام اپنی زبان سے لے تو کیا ہمیں درود پاک پڑھنا چاہیے؟

سوال نمبر:851
اگر کوئی غیر مسلم کسی بحث مباحثے میں یا جس طرح آج کل یورپ وغیرہ میں دین اسلام پر بات ہوتی ہے بحث میں اگر کوئی غیر مسلم سرکار دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسم پاک اپنی زبان سے لیتا ہے تو کیا ہمیں درود پاک پڑھنا چاہیے یا نہیں قرآن اور حدیث کے حوالہ دے کر بیان فرمائیں۔

  • سائل: راجہ کامران امین جیسمینمقام: سرائے عالمگیر، پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 01 اپریل 2011ء

زمرہ: درود و سلام

جواب:

آقا علیہ الصلوۃ السلام کا ارشاد ہے :

من عنده ذُکِرتُ فلم يُصل علیَّ فهو بخيل. (اوکما قال)

جس کے سامنے میرا ذکر ہو اور وہ مجھ پر درود نہ پڑھے تو وہ بخیل ہے۔

یہ حدیث پاک مطلق ہے اس میں کسی مسلم یا غیر مسلم کی قید نہیں ہے لہذا جس سے بھی آپ نام مبارک سنے تو درود پڑھیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: صاحبزادہ بدر عالم جان

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟