کیا شراب کی خالی بولتوں کی تجارت جائز ہے؟

سوال نمبر:830
کیا شراب کی خالی بولتوں کی تجارت جائز ہے؟

  • سائل: محمد دانشمقام: انڈیا
  • تاریخ اشاعت: 30 مارچ 2011ء

زمرہ: خرید و فروخت (بیع و شراء، تجارت)

جواب:

صاحب ھدایہ فرماتے ہیں :

ولا بأس ببيع العصير من يعلم انه ينخده خمراً لان المعصية لاتقام بعينه بل بعد تغييره.

انگور کے شیرہ کو بیچنا جائز ہے اگرچہ خریدنے والا اس سے شراب بنائےگا اس لیے کہ اس میں بعینہ گناہ نہیں ہے بلکہ جب یہ شیرہ شراب بن جائے تو پھر تجارت جائز نہیں ہے۔

(هدايه، 2 : 400)

اس پر قیاس کرتے ہوئے خالی بوتلوں کی تجارت جائز ہے اگرچہ خریدار اس کو شراب کے لیے استعمال کرے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: صاحبزادہ بدر عالم جان

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟