Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - گروی مکان کرایہ پر دینا کیسا ہے؟

گروی مکان کرایہ پر دینا کیسا ہے؟

موضوع: رہن   |  سود

سوال پوچھنے والے کا نام: فاروق بشیر       مقام: لاہور، پاکستان

سوال نمبر 827:
گروی مکان لے کر کرایہ پر دینا کیسا ہے اور اس کاروبار کی شرعی حثیت کیا ہے؟ راہنمایی فرما دیں۔

جواب:
حدیث پاک ہے

کل قرضٍ جَرَّ نَفعَةً فهو ربا.

ہر وہ قرض جو ساتھ نفع دے وہ سود ہے۔

گروی کا مطلب بھی یہ ہے کہ ایک شخص کو رقم کی ضرورت ہے تو وہ اپنی چیز کو اعتماد کے لیے دوسرے کے پاس رکھتا ہے اور وہ شخص کچھ مدت کے لیے اسے رقم دیتا ہے۔ جب یہ رقم واپس کرے گا وہ شخص متعلقہ چیز واپس دے گا۔ مثلاً مکان، سونا اور جائیداد وغیرہ۔

اب اس مکان سے فائدہ حاصل کرنا یہ سود ہے اس لیے کہ یہ قرض کے بدلے بطور امانت آپکے پاس ہے۔

البتہ اگر آپ مالک مکان کو کچھ ماہانہ کرایہ دیتے ہو چاہے وہ عرف سے کم بھی ہو تو اس وقت جائز ہے لیکن مالک مکان کو راضی کرے تو یہ بہتر صورت ہے۔ مکان کی حفاظت آپ پر لازم ہے اس لیے کہ یہ آپ کے پاس امانت ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: صاحبزادہ بدر عالم جان

تاریخ اشاعت: 2011-03-28


Your Comments