Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا کسی غیر مسلم کو سلام کرنا جائز ہے؟

کیا کسی غیر مسلم کو سلام کرنا جائز ہے؟

موضوع: آداب   |  سلام کرنا

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد علی حیدر قادری       مقام: دبئی، متحدہ عرب امارات

سوال نمبر 806:
اگر یہ علم نہ ہو کہ سامنے والا مسلم ہے یا غیر مسلم تو اسے سلام کرنا کیسا ہے اور احسن عمل کیا ہے؟ اور اگر یہ علم ہو جائے کے سامنے والا غیر مسلم ہے تب سلام کہنا چاہئے یا نہیں؟

جواب:
حدیث شریف میں آتا ہے :

لاتبدؤُا اليهود ولا النصاریٰ بالسلام.

یہود و نصارٰی پر سلام کہنے میں پہل نہ کرو۔

اس کی وجہ یہ کہ حدیث پاک میں آتا ہے :

اذا سلم عليکم اليهود فانما يقول احدهم السَّام عليک فقل و عليک. (اوکماقال)

(متفق علیہ)

جب تم کو یہود سلام کرتے ہیں تو وہ کہتے السام علیک۔ وہ یہ لفظ استعمال کرتے تھے اس کا معنی ہے تم جلدی مرجاؤ۔ تو آقا علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا جواب میں تم بھی یہی الفاظ کہو وعلیکم یعنی تم کو بھی ایسا ہی ہو۔

اس سے معلوم ہوا کہ اگر وہ السلام علیکم کہے تو تم بھی وعلیکم السلام کہو اگر وہ السام کہے تو تم جواب میں وعلیکم کہو۔

علماء کرام فرماتے ہیں اگر کوئی مسلمان ایسی جگہ پر کام کرتا ہو یا رہتا ہو جہاں پر وہ لوگ اکثریت میں ہوں تو اگر یہ مسلمان ان کے شر سے بچنے کے لیے ان پر سلام کرے تو کوئی حرج نہیں ہے۔ اگر وہ لفظ سلام استعمال کرتا ہے تو جواب بھی سلام سے ملے تو کوئی حرج نہیں ہے۔ بہرحال اگر وہ پہل کرے تو اچھا ہے اگر مطلقاً بھی سلام کرے تو بعض علماء کے نزدیک فقط مکروہ ہے۔ عرض یہ ہے کہ اسلام سلامتی اور امن کا درس دیتا ہے تو سلام کہنے میں اتنی سختی نہ کی جائے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: صاحبزادہ بدر عالم جان

تاریخ اشاعت: 2011-03-24


Your Comments