کیا تختہ سیاہ پر رسول اللہ ﷺکا نام لکھ کر مٹانا بے ادبی ہے؟

سوال نمبر:799
تختہ سیاہ پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یا صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کا نام چاک سے لکھ کر مٹایا جاتا ہے تو اس کے ذرے زمین پرگرتے اور ہوا میں تحلیل ہو جاتے ہیں۔ کیا اس سے بے حرمتی کا عنصر تو نہیں ہوتا۔ کیونکہ بطور معلم استاد پر لازم ہے کہ وہ بچوں کو مکمل نام لکھ کر اس کے ساتھ توصیفی کلمات بھی لکھنے کی عادت پختہ کرائے۔

  • سائل: فیصل اکرممقام: نوابشاہ سندھ پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 24 مارچ 2011ء

زمرہ: ادب و تکریم مصطفٰی ﷺ

جواب:
تختہ سیاہ پر درود شریف یا اس طرح کے اور کلمات اکثر عارضی طور پر لکھے جاتے ہیں۔ خاص کہ کلاس رومز میں تو اس کا مٹانا جائز ہے۔ اس لیے کہ یہ بے ادبی کی نیت سے نہیں بلکہ ضرورت کے تحت مٹایا جاتا ہے تاکہ تختہ سیاہ صاف اور مزید استعمال کیا جاسکے۔ چونکہ تحتہ سیاہ کا استعمال کلاس رومز میں تعلیم کی لیے ہوتا ہے اس لیے یہ جائز ہے۔ البتہ جہاں مستقل طور پر درود شریف، آیات یا اور مقدس نام وغیرہ لکھے جائیں تو ان کو نہیں مٹانا چاہیے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: صاحبزادہ بدر عالم جان

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟