Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - اگر کسی جگہ مستقل امام نہ ہو تو ادھر امامت کا کیا حکم ھے؟

اگر کسی جگہ مستقل امام نہ ہو تو ادھر امامت کا کیا حکم ھے؟

موضوع: امامت

سوال پوچھنے والے کا نام: غیاث الدیں احمد       مقام: چکوال

سوال نمبر 794:
اگر کسی جگہ مستقل امام نہ ہو یاامام کی غیر موجودگی میں کوئی داڑھی منڈا حافظ یا داڑھی منڈا شخص نماز پڑھائے تو کیا مقتدیوں کی نماز ہو جائے گی؟ ایسی صورتحال میں داڑھی والا بلا تجوید پڑھنے والا بہتر ہوگا یابغیر داڑھی یا چھوٹی داڑھی والا حافظ قرآن ؟

جواب:

مستقل امام ہونے کی صورت میں تو تمام تقاضے پورے کرنے ہونگے۔ البتہ اگر مستقل امام موجود نہ ہو تو جو زیادہ صحیح قرات اور عالم ہو تو اس کو امامت کرنے کے لیے آگے کرنا چاہیئے۔

اسلیئے کہ نماز میں قرات فرض ہے اور داڑھی سنت مؤکدہ ہے۔ اسلیئے جو زیادہ صحیح قرات کرنے والا ہو تو وہ زیادہ افضل ہے۔

نماز ہو جاتی ہے صرف فضیلت سے محروم ہونے کی بات ہے۔ لیکن مستقل امام کیلئے داڑھی، علم، تجوید، تقوٰی وغیرہ لازمی ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: صاحبزادہ بدر عالم جان

تاریخ اشاعت: 2011-03-19


Your Comments