کیا ایک طالبعلم کی حیثیت سے بیک وقت ایک سے زیادہ دینی جماعتوں کے ساتھ تعلق رکھنا جائز ہے؟

سوال نمبر:759
میرا ایک دوست ہے جو کہ تمام دینی جماعتوں کی دعوت قبول کر لیتا ہے۔ جیسے تبلیغی جماعت، دعوت اسلامی، جماعت اسلامی اور وغیرہ وغیرہ۔ میرے دوست کا کہنا ہے کہ وہ ایک طالبعلم ہے جہاں سے بھی علم حاصل ہو کرنا چاہیے۔ کیا ایسا کرنا درست ہے؟ اگر نہیں تو کیا ایسے دوست کے ساتھ دوستی رکھنی چاہیے۔ مہربانی فرما کر واضح کر دیں۔

  • سائل: مستقیم چودھریمقام: ابو ظہبی، یو ای اے
  • تاریخ اشاعت: 12 مارچ 2011ء

زمرہ: جدید فقہی مسائل

جواب:
ہر مسلمان کے ساتھ حسن سلوک کرنا نیکی ہے۔ مل کر بیٹھنے اور مجلس کرنے میں کوئی گناہ نہیں ہے بلکہ باعث ثواب ہے۔ لیکن یہ خیال ضرور رکھنا چاہیے کہ جماعتوں میں بہت سی چیزیں مشترک ہیں اور بہت سے ایسی چیزیں ہیں جس میں تھوڑا بہت اختلاف پایا جاتا ہے۔ تو کوشش یہ کرنی چاہیے کہ عقیدہ اہل سنت و جماعت پر بندہ کاربند رہے اور اپنے اسلاف اور بزرگوں کی نصیحت پر عمل پیرا ہو۔ جو بھی جماعت حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی عظمت، محبت اور ادب کا خیال رکھتی ہے بہتر ہے، اسی میں خیر و برکت ہے۔

الدين کله ادب.

ہمارا دین اسلام سارے کا سارا ادب ہے۔

اس لیے ادب والے لوگوں سے فیض حاصل کرنا چاہیے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: صاحبزادہ بدر عالم جان

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • کاروباری شراکت کے اسلامی اصول کیا ہیں؟
  • وطن سے محبت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟