Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا بنک کی نوکری جائز ہے؟

کیا بنک کی نوکری جائز ہے؟

موضوع: جدید فقہی مسائل  |  سود

سوال پوچھنے والے کا نام: الطا ف حسن       مقام: پاکستان

سوال نمبر 748:
کیا بنک کی نوکری جائز ہے؟

جواب:
ہمارے ہاں بنکنگ کا سارا نظام اور کاروبار سود پر مبنی ہے اور ایسی ملازمت جس میں سود کا عمل دخل ہو حرام ہے، لیکن ایسے ادارے میں ملازمت صرف اس شرط پر جائز ہے کہ آپ کسی جائز ملازمت کی تلاش جاری رکھیں اور جب سود سے پاک ملازمت مل جائے تو ادھر سے مستعفی ہوجائیں۔ جب تک آپ کو متبادل سود سے پاک روزگار نہ ملے آپ اپنے آپ کو اور اپنے اہل خانہ کو تنگ دستی اور بھوک سے بچانے کے لیے اضطراراً یہ ملازمت کر سکتے ہیں۔ اس لیے کہ قرآن میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ حالت اضطراری میں مردار کھانا جائز ہے لیکن بقدر ضرورت اور حلال رزق کی تلاش ساتھ ساتھ جاری رکھیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2011-03-11


Your Comments