استحاضہ کسے کہتے ہیں اور اس کے کیا احکام ہیں؟

سوال نمبر:741
استحاضہ کسے کہتے ہیں اور اس کے کیا احکام ہیں؟

  • تاریخ اشاعت: 05 مارچ 2011ء

زمرہ: استحاضہ   |  طہارت   |  نجاستیں

جواب:
اگر عورت کو تین دن سے کم یا دس دن سے زیادہ خون آئے تو اسے استحاضہ کہتے ہیں۔ اسی طرح اگر نفاس مین چالیس دن سے زیادہ خون آئے تو وہ بھی استحاضہ ہے۔ اگر کسی عورت کو اپنی عادت سے زیادہ خون آئے تو وہ بھی استحاضہ ہے۔

اگر کسی عورت کو پانچ دن خون آتا ہےاور یہ پانچ دن عادت بن گئیاب اگر اسے بعد میں کبھی دس دن آیاتو پانچ دن حیض اور پانچ دن استحاضہ ہے۔

استحاضہ کے احکام

  1. استحاضہ میں عورت نماز پڑھ سکتی ہے لیکن ہر نماز کے لئے الگ وضو کرے گی۔
  2. حالت استحاضہ میں عورتروزہ رکھ سکتی ہے۔
  3. حالت حیض اور نفاس میں عورت سے جتنی نمازین قضائ ہو گئیںان کی کوئی قضاء نہیں اور اگر روزے قضاء ہو گئے توان کی قضاءبعد میں لازم ہے۔
  4. حالت استحاضہ میں عورت تمام کام کر سکتی ہے بخلاف حیض و نفاس کے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • کاروباری شراکت کے اسلامی اصول کیا ہیں؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟