Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - آدابِ ایمان کتنے اور کون کون سے ہیں؟

آدابِ ایمان کتنے اور کون کون سے ہیں؟

موضوع: ایمانیات

سوال نمبر 72:
آدابِ ایمان کتنے اور کون کون سے ہیں؟

جواب:
ایمان کے بنیادی آداب تین ہیں۔ جن کی بجا آوری مومن بننے کے لئے لازمی اور ضروری ہے۔

  1. ایمان کا پہلا ادب یہ ہے کہ دائرہ اسلام میں داخل ہونے کے بعد زندگی کو ایک مکمل اکائی اور ایسا کل سمجھا جائے جس کے اجزاء ایک دوسرے سے جدا نہیں بلکہ جڑے ہوئے ہیں۔
    اس ادب کا تقاضا یہ ہے اسلام میں داخل ہونے کے بعد انسان کبھی ایسا نہ ہونے دے کہ اس کا ایک حصہ ایمان اور دوسرا حصہ کفر سے عبارت ہو۔ یہ صورتحال ایمان اور کفر کا ملغوبہ ہو گی جسے قرآن کی زبان میں منافقت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
  2. ایمان کا دوسرا ادب یہ ہے کہ ہم نادانستہ طور پر بھی ان چیزوں کے قریب نہ پھٹکیں جن پر قرآن و حدیث نے حد مقرر کی ہے، یہ اس امر کا متقاضی ہے کہ حلال اور حرام کی تمیز زندگی میں اس طرح کار فرما ہو کہ کفر اور منافقت کا کوئی شائبہ تک باقی نہ رہے اور دنیوی زندگی کے تمام معاملات اس طرح اسلامی تعلیمات کے سانچے میں ڈھل جائیں کہ انسان کا ظاہر و باطن ہر قسم کے تضاد اور شک و شبہ سے یکسر پاک ہو جائے۔
  3. ایمان کا تیسرا ادب اس اسلام کو شعار حیات بنانا ہے جسے پوری زندگی پر حاوی اور نافذ کرنے کا حکم قرآن نے دیا ہے۔

یہ ادب اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات طیبہ اور سیرت مبارکہ کے آئینے میں نظر آنے والا ہر حکم اور عمل بلا روک ٹوک بشرح صدر ایمان سمجھ کر تسلیم کر لیا جائے اور جو بات قرآن و سنت کے خلاف ہو، اسے کفر جان کر رد کر دیا جائے۔ کفر اور ایمان کے رد و قبول کے اس معیار کو عملی زندگی میں اپنا لینا ہی ایمان کی بنیادی شرط ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔


Your Comments