کیا تیمم کے لئے برف پر مسح کیا جا سکتا ہے؟

سوال نمبر:717
مجھے ایک پہاڑی علاقے کا سفر درپیش ہے، جہاں ہر طرف برف کی چادر چھائی ہوئی ہے اور وضو کے لئے پانی ملتا ہے اور نہ تیمم کے لئے مٹی۔ کیا میں ایسی صورت میں تیمم کے لئے برف پر مسح کر سکتا ہوں؟

  • سائل: سلمان بیگمقام: لاہور، پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 04 مارچ 2011ء

زمرہ: تیمم   |  طہارت

جواب:

پانی سے وضو کرنا حقیقی طہارت ہے اور مٹی سے تیمم کرنے کو حکمی طہارت کہتے ہیں۔

تیمم دو صورتوں میں کرنا جائز ہے :

  1. ایسے مریض کے لیے جو پانی استعمال کرے تو اس کا مرض بڑھنے کا یا فالج وغیرہ کا خطرہ ہو۔
  2. ایسے شخص کے لئے جسے ایک میل کے فاصلے تک کہیں بھی پانی دستیاب نہ ہو۔

آپ حتی الامکان کوشش کریں کہ وضو کے لئے پانی ساتھ لے جائیں۔ اگر ایسا ممکن نہ ہو یا شدید سردی کی وجہ سے پانی کے برف بن جانے کا مسئلہ درپیش ہو تو فقہاء کا کہنا ہے کہ ایسے علاقے میں جاتے وقت لکڑی، لوہے یا کسی اور چیز کا تختہ ساتھ لے جائیں اور اس کے اوپر مٹی کا پلستر کر لیں۔ اس تختے کے اوپر تیمم کیا جا سکتا ہے۔

جو چیزیں زمین کی جنس سے نہیں ان پر براہ راست تیمم جائز نہیں، اس لئے ان پر گرد و غبار ہونے یا مٹی کا پلستر کئے ہونے کی صورت میں ان پر تیمم کرنا جائز ہوتا ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: صاحبزادہ بدر عالم جان

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • کاروباری شراکت کے اسلامی اصول کیا ہیں؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟