Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - تقطیر بول (بار بار پیشاب کے قطرے آنے) کی صورت میں نماز کیسے پڑھی جائے گی؟

تقطیر بول (بار بار پیشاب کے قطرے آنے) کی صورت میں نماز کیسے پڑھی جائے گی؟

موضوع: طہارت   |  استنجا   |  وضوء

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد نعمان آصف       مقام: راولپنڈی، پاکستان

سوال نمبر 705:
مجھے استنجا سے فارغ ہونے کے پیشاب کے قطرے آتے ہیں جو کہ 10 سے 15 منٹ تک آتے رہتے ہیں اس صورت میں نماز کیسے پڑھوں گا اور کیا کرنا چاہیے، اس کی وجہ سے بہت مسئلہ ہے؟

جواب:
جب تک قطرے آنا بند نہ ہوں تب تک آپ استنجا نہیں کر سکتے، جب یقین ہو جائے کہ قطرے بند ہو گئے ہیں تو پھر استنجا کریں، اگرچہ اس دوران نماز باجماعت یا وقت جانے کا خطرہ ہو۔

لیکن اگر یہ قطرے ایک نماز کا مکمل وقت آتے رہے اور بند نہ ہوں تو پھر آپ معذور ہیں۔

یعنی عصر کا مکمل وقت قطرے آتے رہے یہاں تک کہ مغرب کی اذان ہو گئی تو پھر آپ معذور ہیں اور معذور کے لیے ضروری ہے کہ ہر نماز کیلئے نیا وضو بنائے (اس وضو سے فرض نماز، نوافل، قضا نمازیں اور تلاوت قرآن وغیرہ کرسکتے ہیں) اور اس دوران اگر قطرے آتے بھی رہے تو وضو نہیں ٹوٹے گا۔ البتہ اس نماز کا وقت ختم ہونے پر وضو خود بخود ختم ہو جائے گا اور نیا وضو بنانا ہوگا۔ (کتب فقہ، عالمگیری، 1 : 49)

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: صاحبزادہ بدر عالم جان

تاریخ اشاعت: 2011-03-03


Your Comments