تقطیر بول (بار بار پیشاب کے قطرے آنے) کی صورت میں نماز کیسے پڑھی جائے گی؟

سوال نمبر:705
مجھے استنجا سے فارغ ہونے کے پیشاب کے قطرے آتے ہیں جو کہ 10 سے 15 منٹ تک آتے رہتے ہیں اس صورت میں نماز کیسے پڑھوں گا اور کیا کرنا چاہیے، اس کی وجہ سے بہت مسئلہ ہے؟

  • سائل: محمد نعمان آصفمقام: راولپنڈی، پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 03 مارچ 2011ء

زمرہ: طہارت   |  استنجا   |  وضوء

جواب:
جب تک قطرے آنا بند نہ ہوں تب تک آپ استنجا نہیں کر سکتے، جب یقین ہو جائے کہ قطرے بند ہو گئے ہیں تو پھر استنجا کریں، اگرچہ اس دوران نماز باجماعت یا وقت جانے کا خطرہ ہو۔

لیکن اگر یہ قطرے ایک نماز کا مکمل وقت آتے رہے اور بند نہ ہوں تو پھر آپ معذور ہیں۔

یعنی عصر کا مکمل وقت قطرے آتے رہے یہاں تک کہ مغرب کی اذان ہو گئی تو پھر آپ معذور ہیں اور معذور کے لیے ضروری ہے کہ ہر نماز کیلئے نیا وضو بنائے (اس وضو سے فرض نماز، نوافل، قضا نمازیں اور تلاوت قرآن وغیرہ کرسکتے ہیں) اور اس دوران اگر قطرے آتے بھی رہے تو وضو نہیں ٹوٹے گا۔ البتہ اس نماز کا وقت ختم ہونے پر وضو خود بخود ختم ہو جائے گا اور نیا وضو بنانا ہوگا۔ (کتب فقہ، عالمگیری، 1 : 49)

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: صاحبزادہ بدر عالم جان

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟