کیا ہر شرعی معاملے میں سعودی عرب کے لوگوں کی اتباع ضروری ہے؟

سوال نمبر:699
آج کل یہ کہا جاتا ہے کہ جیسے سعودی عرب والے ہیں اسی طرح اپنے آپ کو ڈھال لو، یعنی سعودی عرب والے سر پر ٹوپی نہیں رکھتے تو لوگوں نے اس وجہ سے سر پر ٹوپیاں بھی رکھنا چھوڑ دیں۔ اسی طرح کہا جاتا ہے کہ کیونکہ آخری وقت میں دین سمٹ کر سعودی عرب کی جانب ہوگا اس لئے ان کی پیروی کی جائے تاکہ فلاح پائی جائے۔ اس بارے میں قرآن و حدیث کی روشنی میں‌ تفصیلی جواب دیں اور بتائیں کہ آخری وقت میں سعودی عرب کے حالات کیا ہوں گے۔

  • سائل: محمد فاروقمقام: کراچی، پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 04 مارچ 2011ء

زمرہ: ایمانیات

جواب:

قرآن و سنت سے یہ کہیں بھی ثابت نہیں ہے کہ کسی ملک کے باشندوں کی طرح اپنے آپ کو ڈھال لو۔ یہ لوگوں کی افواہیں ہیں۔ اسکی شرعی کوئی حیثیت نہیں ہے بلکہ قرآن مجید سے صرف یہ ثابت ہے کہ اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کرو۔ قرآن و سنت کے مطابق زندگی بسر کرو۔

وَأَطِيعُواْ اللّهَ وَرَسُولَهُ وَلاَ تَنَازَعُواْ فَتَفْشَلُواْ وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ وَاصْبِرُواْ إِنَّ اللّهَ مَعَ الصَّابِرِينَo

(الْأَنْفَال ، 8 : 46)

’’اور اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑا مت کرو ورنہ (متفرق اور کمزور ہو کر) بزدل ہو جاؤ گے اور (دشمنوں کے سامنے) تمہاری ہوا (یعنی قوت) اکھڑ جائے گی اور صبر کرو، بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہےo‘‘

حدیث پاک میں ہے :

عن ابی هريرة ان رسول الله صلی الله عليه وآله وسلم قال کل امنی يدخلون الجنة اِلاّ من اَبیٰ قالوا ومن ابیٰ قال من اطاعنی دَخَل الجنة و من عصانی فقدابیٰ.

(بخاری، 2 : 1082)

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میرے سب امتی جنت میں جائیں گے مگر جس نے انکار کیا وہ نہیں جائے گا۔ عرض کیا گیا کون انکار کرتا ہے۔ فرمایا : جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہو گا اور جس نے نافرمانی کی اس نے انکار کیا۔‘‘

اسی طرح درجنوں ارشادات ہیں جس میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے۔

لہذا اطاعت کسی ملک اور قوم کے ساتھ نہیں بلکہ اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ خاص ہے۔

صرف ٹوپی کا مسئلہ نہیں انکے اور ہمارے درمیان بہت سارے فروعی مسائل میں یکسانیت نہیں ہے۔ دیکھیں انکا لباس اور ہمارا لباس، انکے رہن سہن کے طریقے اور ہمارے جدا جدا ہیں۔ یہ بات مکمل نہیں ہے کہ آخر زمانے میں ایمان سعودی عرب کی طرف ہوگا۔ بلکہ حدیث پاک کے الفاظ یوں ہیں :

عن ابی هريرة ان رسول الله صلی الله عليه وآله وسلم قال اِنَّ الايمان لَيارزُ اِلی المدينه کما تارز الحيَّةُ اِلی حجرها.

(بخاری، 1 : 252)

’’حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ایمان مدینہ کی طرف سمٹ جائے گا جیسا کہ سانپ اپنے بل میں سمٹ آتا ہے۔‘‘

تو اس میں سعودی عرب کے کسی شہر کا نام نہیں صرف اور صرف مدینہ منورہ کا ذکر ہے۔ لہذا آخری زمانے میں تمام مومنین مدینہ پاک میں ایمان بچانے کیلئے پناہ لینگے۔ مدینہ پاک کا ذکر اس لیے کیا کہ یہاں پر روضہ اقدس میں سرکار علیہ الصلوۃ والسلام خود موجود ہیں چونکہ ایمان مسلمانوں کو انکے وسیلے سے ملا ہے اور آخر میں انکے وسلیے سے حفاظت ہو گی چونکہ آپ ایمان کا محور و مرکز ہیں اس لیے آخر میں ایمان سارے کا سارا ادھر ہی جمع ہو جائے گا۔

واللہ و رسولہ اعلم۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: صاحبزادہ بدر عالم جان

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • کاروباری شراکت کے اسلامی اصول کیا ہیں؟
  • وطن سے محبت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟