Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - اگر معتکفہ کا شرعی عذر کی وجہ سے مسنون اعتکاف ٹوٹ جائے تو وہ کتنے دنوں کے اعتکاف کی قضا کرے گی؟

اگر معتکفہ کا شرعی عذر کی وجہ سے مسنون اعتکاف ٹوٹ جائے تو وہ کتنے دنوں کے اعتکاف کی قضا کرے گی؟

موضوع: اعتکاف   |  عبادات  |  مسنون اعتکاف   |  مسائل اعتکاف   |  روزہ

سوال نمبر 669:
اگر معتکفہ کا شرعی عذر کی وجہ سے مسنون اعتکاف ٹوٹ جائے تو وہ کتنے دنوں کے اعتکاف کی قضا کرے گی؟

جواب:
رمضان المبارک میں معتکف یا معتکفہ (مرد یا عورت) کا کسی عذر کی وجہ سے مسنون اعتکاف ٹوٹ جائے، مثلًا ضرورت سے زائد اعتکاف گاہ سے باہر رہے یا معتکفہ (عورت) کو حیض آجائے یا نفاس (بچے کی پیدائش) ہو جائے یا کوئی اور بیماری یا تکلیف لاحق ہو جائے تو جتنے دن کا اعتکاف رہ جائے، اور رمضان المبارک کے روزے بھی اتنے ہی ہوں تو عید کے بعد جب رمضان کے روزوں کی قضا کرے تو اعتکاف کی بھی قضا کر لے۔ اگر قضائے رمضان کے ساتھ اعتکاف نہیں کیا تو بعد میں نفلی روزے رکھ کر اعتکاف پورا کرے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔


Your Comments