تعلق بالرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا مراد ہے؟

سوال نمبر:63
تعلق بالرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا مراد ہے؟

  • تاریخ اشاعت: 19 جنوری 2011ء

زمرہ: ایمانیات  |  ایمانیات

جواب:

امت کا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس کے ساتھ پختہ تعلق قائم رکھنا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کی دل و جان سے پیروی اور اتباع کرنا تعلق بالرسول کہلاتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

’’اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور اس (کتاب) پر ایمان لائے جو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل کی گئی ہے اور وہی ان کے رب کی جانب سے حق ہے۔‘‘

محمد، 47 : 2

موجودہ معروضی حالات میں یہ افسوس کا مقام ہے کہ ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کے بلند و بانگ دعوے تو بہت کرتے ہیں مگر اس محبت کے تقاضے پورے نہیں کرتے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات سے تعلق بحال ہونے کا معنی یہ ہے کہ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی غلامی کا طوق ہم اس طرح زیب گلو کریں کہ دنیا کی ہر غلامی سے ہماری جان چھوٹ جائے۔ وہ لوگ جو فقط حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خادم اور غلام بن جاتے ہیں وہ دنیا کے جاہ و منصب اور جھوٹی وفاداریوں کے بت پاش پاش کر دیتے ہیں اور سوائے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کسی اور سے آشنائی کا دم نہیں بھرتے۔ جس دن ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سچے اور سُچے خادم اور غلام بن گئے اس دن ہم محکومی غیر سے آزادی حاصل کر کے حریت کی منزل تک جا پہنچیں گے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • کاروباری شراکت کے اسلامی اصول کیا ہیں؟
  • وطن سے محبت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟