Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا قے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟

کیا قے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟

موضوع: عبادات  |  روزہ

سوال نمبر 628:
کیا قے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟

جواب:

قے آنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا خواہ کم ہو یا زیادہ لیکن اگر خود اپنے فعل اور کوشش سے قصدًا قے کی جائے اور منہ بھر کر ہو تو روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور اگر کم ہو تو نہیں ٹوٹے گا۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

مَنْ ذَرَعَهُ القَيْئُ فَلَيسَ عَلَيه قَضَاءٌ، وَمَنِ اسْتقَاءَ عَمْدًا فَلْيقْضِ.

 ترمذی، السنن، ابواب الصوم، باب ما جاء فیمن استقاء عمداً، 2 : 90، رقم :  720

’’جس شخص کو (حالتِ روزہ میں) از خود قے آ جائے تو اس پر قضاء نہیں اور (اگر) جان بوجھ کر قے کی تو وہ (اس روزہ کی) قضاء کرے۔‘‘

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔


Your Comments